42

آپ کا وزیر اعظم آپ کیساتھ ، عمران خان ٹیلیفون پر براہ راست عوام سے گفتگو کر رہے ہیں

وزیر اعظم عمران خان آپ کا وزیر اعظم آپ کیساتھ پروگرام میں عوام سے براہ راست گفتگو کر رہے ہیں ، وزیر اعظم اس سلسلے کی تیسری نشست میں عوام سے براہ راست گفتگو کر رہ ہیں ۔ پروگرام کی ابتداءمیں وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر میں قوم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا ،ہم نے لاک ڈاؤن بھی نہیں کیا اور اچھے نتائج حاصل کئے ،ہمارے ہمسایہ ملک میں دیکھیں ،انہوں نے لاک ڈاؤن کیا تو کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے ، بنگلہ دیش ، نیپال اور اردگرد دیکھیں تو اللہ نے پاکستان کو بچایا ہوا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عید کی چھٹیوں میں اپنا، اپنے بزرگوں اور چھوٹوں کا خیال رکھیں ،جو کیسز تیزی سے بڑھ رہے تھے وہ رک گئے ہیں ، سب سے درخواست کرتا ہوں کہ فیس ماسک سمیت دیگر ایس او پیز پر عملدرآمد کریں ۔

ایک سوال کے جواب کہ پاکستان میں قانون امیروں اور غریبوں کیلئے یکساں نہیں کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے 25 سال پہلے اپنی جماعت کا نام تحریک انصاف اسی لئے رکھا تھا ، میں برطانیہ سے پڑھا ہوں ،میں نے وہاں کا نظام دیکھا ہے ، میری ڈگری سیاسیات میں ہے ، دنیا کی تاریخ میں جو قوم اوپر گئی ہے انہوں نے قانون کی بالا دستی قائم کی ، جب میں مدینہ کی ریاست کا کہتا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد دودھ کی نہریں بہنے لگیں گیں، ریاست مدینہ میں قانون کی بالا دستی تھی ؕ ۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کی فوجیں برطانیہ کو تباہ کر رہی تھیں تب لوگ ونڈسل چرچل کے پاس جا کر پوچھا کہ کیا ہم بچ جائیں گے تو چرچل نے کہا کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف دیتی ہیں تو کوئی بھی ہمیں تباہ نہیں کر سکتا۔ جرمنی ، جاپان کو دیکھ لیں سارا ملک تبا ہ ہونے کے بعد دس سال میں دوبارہ کھڑا ہو گیا ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب حکمران منی لانڈرنگ کر کے پیسے باہر پھینکتے ہیں تو ملک تباہ ہوتے ہیں ، پیسہ باہر جانے سے ڈالر  اوپر جاتا ہے ، یہ صرف ہمارا ہی نہیں ہر غریب ملک کا مسئلہ ہے ، ہر سال غریب ملکوں میں ایک ارب ڈلرز چوری ہو کر باہر جا رہے ہیں ۔ یہاں مارشل لاء کے ساتھ جمہوریت پسند عناصر بھی طاقت کا استعمال کرتے ہیں ، نواز شریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا،  چیف جسٹس نے بھاگ کر اپنی جان بچائی ، مجھے اس کیساتھ کھڑا ہونے پر جیل میں ڈالا گیا ، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا جہاد ہے ، تیس سال ملک کو لوٹنے والے کبھی نہیں چاہیں گے کہ قانون کی بالا دستی ہو ، یہ ہر طرح کے حربے استعمال کریں گے کہ ایسا نہ ہو ، شوگر مافیا بھی نہیں چاہے گا کہ ایسا  کچھ ہو ۔ ہم تب تک عظیم قوم نہیں بن سکیں گے جب تک ہم انصاف قائم نہیں  کریں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے مشن میں مافیاز سے لڑ رہے ہیں اور کامیاب ہو رہے ہیں ، میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کھڑے ہوں مجھے صرف آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے ، میں آپ کو جیت کر دکھاؤں گا۔

ایک اور سوال کہ بھارت میں ہونے والے مظالم پر  مغرب سمیت عالمی برادری عملی طور پر کچھ کیوں نہیں کرتے کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مغرب چین سے ڈرا ہوا ہے ،انہیں خوف ہے کہ چین معاشی ترقی سمیت ان سے آگے نکل جائے گا، اس لئے وہ چین کے مقابل بھارت کو کھڑا  کر رہا ہے ، اس لئے وہ بھارت کے اعمال کو نظر انداز کر رہے ہیں ، ہم نے کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑا ، اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھایا  لیکن بد قسمتی سے مغرب نے اتنے اقدامات نہیں کئے، لیکن میں واضح کر دوں کہ جب تک بھارت  کشمیر کی پانچ اگست سے پہلے والی حیثیت بحال نہیں کرے گا کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔

جرمنی سے ایک کالر ذوالفقار نے فرینکفرٹ سفارتخانے کے ایک عہدیدار کیخلاف شکایت کی، وزیر اعظم نے کہا کہ میں سارے سفیروں کو برا نہیں کہتا ، انہوں نے کشمیر کی آواز ہر فورم پر اٹھائی ، اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات کیلئے نیا سسٹم متعارف کرا رہے ہیں ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نیچے ایک سپیشل آفیسر ہوگا ، جو شکایات  سفارتخانے حل نہیں کر رہے ، انہیں وہ آفیسر سنے گا، میرا سٹیزن پورٹل بھی شکایات سنے گا ۔ 

اسلام آباد سے ہارون نامی کالر نے پانی کا مسئلہ اٹھایا ، وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی اور اسلام آباد میں پانی کا مسئلہ ہے  اگر راوی سٹی نہیں بناتے تو لاہور میں بھی پانی کا مسئلہ ہوگا۔ شہر بغیر کسی پلاننگ کے پھیلتے جا رہے ہیں ، ہم شہروں کے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں ، شہروں کو ہائی رائز کی اجازت دے رہے ہیں ، شہر اوپر چلا جائے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے ، شہر پھیل جائیں تو مسئلے پیدا ہوتے ہیں ۔اسلام آباد میں پانی اوپر لانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ۔  ہاؤسنگ سوسائٹی کےبارے میں بتا دوں کہ پاکستان میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ بھی اپنا گھر بنا رہا ہے ۔ہم ایک بینکنگ سسٹم بنا رہے ہیں جس کا کام ہی لوگوں کو قرضے دینا ہے ،حکومت لوگوں کو تین فیصد پر قرضے دے رہی ہے جبکہ گھروں پر تین لاکھ روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے ،  آنے والے وقت میں لوگوں کو مزید سہولیات دیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں