17

احتساب آرڈیننس میں ترامیم کیلئے اراکینِ کابینہ کی مشاورت کا امکان

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے سینئر اراکین کی جانب سے تجاویز تیار کی جائیں گی تاکہ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) 1999 میں ترمیم کے لیے حتمی مسودہ بل کی شکل دی جاسکے جس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کو ان کی 4 سالہ غیر توسیعی مدت کے دوران ہٹانے کے راستے تلاش کرنا بھی شامل ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ منگل کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے جس میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) خالد جاوید خان، وزیر اطلاعات، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر تعلیم شفقت محمود شرکت کریں گے۔

نیب کے موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی 4 سالہ مدت رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں ختم ہونے والی ہے۔

انہوں نے 10 اکتوبر 2017 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اس وقت کے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بعد جاوید اقبال کو چیئرمین نیب مقرر کیا گیا تھا۔

این اے او میں ترمیم کی دو تجاویز تیار کی جا رہی ہیں، ایک وزارت قانون اور دوسری اے جی پی آفس کی جانب سے، جس کی حمتی منظوری کے لیے آئندہ دنوں میں دورانِ اجلاس غور کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو یہ کام سونپا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کو مشاورت میں شامل کریں اور انہیں قومی اسمبلی کی ابھی تک بننے والی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں نیب آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کرنے کی دعوت دیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘چیئرمین نیب طلب کرنے پر سینیٹ میں نہ آئے تو قانونی اختیارات استعمال کریں گے’

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ’لیکن اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی سنجیدہ بات چیت کے راستے میں آنے والی بڑی رکاوٹ ملک کو درپیش مسائل سے زیادہ ان کے رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی کے کیسز پر ان کی تشویش ہے‘۔

ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ منگل کو اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ اگر چیئرمین نیب جسمانی یا ذہنی صلاحیت یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فرائض کو صحیح طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہوں تو انہیں کس طرح ہٹایا جائے تاہم این اے او چیئرمین نیب کو ہٹانے کے طریقہ کار پر خاموش ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب کے نئے چیئرمین کے تقرر یا موجودہ چیئرمین کی مدت میں توسیع دینے کے بارے میں اجلاس کے دوران خاموشی تھی تاہم وزیر اعظم عمران خان نے تاثر دیا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو نظرانداز کرنے سے پورے عمل کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ تھی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اعظم تارڑ سے اس سلسلے میں غیر رسمی رابطہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں