103

اسامہ ستی کیس میں ملزمان کو بڑا ریلیف، دہشت گردی کی دفعات ختم

سلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے طالب علم اسامہ ستی کیس میں ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات حذف کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ 
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایف آئی آر سے دہشت گردی کی دفعات حذف کرتے ہوئے کیس ٹرائل کے لیے ضلعی کچہری بھجوا دیا ہے۔
ملزمان نے ایف آئی آر میں عائد کی گئی دہشت گردی کی دفعات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کے حکمنامے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق فیصلے کی روشنی میں یہ واقعہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا، عدالت دہشت گردی کی دفعات کو خارج کرنے کا حکم دے۔‘ 
انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ ضلعی کچہری بھجوا دیا ہے۔ دہشت گردی کی دفعات ختم ہونے سے ملزمان کو ایک بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ 
دوسری جانب مدعی کے وکیل نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 
واضح رہے کہ رواں سال جنوری کے اوائل میں اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں ایک گاڑی پر پولیس کی فائرنگ سے اسامہ ستی نامی نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں