29

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ مری کا ذمہ دار پوری ریاست کو ٹھہرا دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ مری کا ذمہ دار پوری ریاست کو ٹھہرا دیا، عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعظم نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس آئندہ ہفتے بلا کرذمہ داروں کیخلاف کارروائی کریں، 21 جنوری تک رپورٹ جمع کرائی جائے۔

اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کیلئے مری کے رہائشی کی درخوست پر سماعت

کی۔

دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل کا کہنا تھا کہ مفاد عامہ میں درخواست دائرکی، درخواست گزار7 جنوری کومری گیا،جب ٹول پلازہ سے سیاح مری جا رہے تھے توکسی نےان کونہیں روکا نہ خدشے سے آگاہ کیا، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سیاح توہرسال اسی طرح مری جاتے ہیں ۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ کوروسٹرم پربلا کراین ڈی ایم اے سےمتعلقہ قوانین پڑھنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ این ڈی ایم اے اتنی بڑی باڈی ہے جس میں سارے متعلقہ لوگ موجود ہیں، اپوزیشن بھی ہے ،کیا اتنی بڑی باڈی کی کبھی بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کیا این ڈی ایم اے کی اس حوالے سے کبھی میٹنگ ہوئی،اس حوالے سے تو باقاعدہ مینجمنٹ پلان ہونا چاہیئے تھا،اگر کمیشن کی میٹنگ نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی،عدالت کو آ کر آگاہ کریں ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر ہی عدالت کو آگاہ کر سکتا ہوں۔

عدالتی حکم پر این ڈی ایم اے کے ممبرڈیزاسٹرمینجمنٹ اسلام آبادہائیکورٹ میں پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ 22 لوگوں کی موت کا ذمہ دارکون ہے؟ این ڈی ایم اے کسی سانحےسےنمٹنے کی تیاری اوررسپانس کا ذمہ دارہے،کل کوخدا نخواستہ زلزلہ آئے تو آپ نے کہنا ہے کہ

ہماری ذمہ داری نہیں ہے ،پارلیمنٹ کے 2010 کے بنائے گئے قانون پرعمل درآمد ہونا تھا۔

عدالت نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ قانون کی متعلقہ شقیں پڑھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ درخواست گزار کی شکایت ہے کہ کوئی تیاری نہیں تھی ورنہ 22 افراد کی

جانیں نہ جاتیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد نے استفسار کیا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی آج تک کبھی میٹنگ ہوئی ہے؟۔

ممبراین ڈی ایم اے نے بتایاکہ ایک مٹنگ 21 فروری2013 کو ہوئی تھی اور

دوسری مٹنگ 5 سال بعد 28 مارچ 2018 کو ہوئی۔

عدالت نے پوچھا کہ کسی لیڈر آف دی اپوزیشن نے آپ کو درخواست کی کہ کمیشن کی میٹنگ بلائیں؟ جس پر ممبر نے بتایا کہ کسی اپوزیشن لیڈر نے ہمیں میٹنگ بلانے کا نہیں کہا۔

چیف جسٹس اطہرامن اللہ نےریمارک

س دیئے کہ کسی قائد حزب اختلاف نے درخواست کی کمیشن کا اجلاس بلائیں ،اس سے زیادہ پاورفل باڈی کوئی اور نہیں ہوسکتی،کبھی ڈی جی این ڈی ایم اے نے اجلاس بلانےکیلئے حکومت کو خط لکھا کہ کل کوئی آفت آئی تو ذمہ داری این ڈی ایم اے پرآئے گی ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ممبر این ڈی ایم اے سے

مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا مری کیلئے کوئی نیشنل پلان بنایا؟آپ ناکام ہوئے ہیں، آپ کی ذمہ داری تھی کہ میٹنگ بلاتے، آپ کی ذمہ داری تھی کہ اس علاقے کیلئے نیشنل مینجمنٹ پلان دیتے۔

عدالت نےاین ڈی ایم اے ممبرپراظہاربرہمی کرتےہوئےکہاکہآپ سمجھ نہیں رہے، آپ کی اتھارٹی نے قانون پر عمل کرانا تھا، کسی اورپرالزام نہ لگائیں ،اتنا زبردست قانون ہے کہ ہر ضلع کے ذمہ داروں تک کیلئے ذمہ داری ڈالتا ہے، آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس باڈی کی میٹنگز ہوں اور قانون پرعمل درآمد ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پوچھا کہ صوبائی باڈیز کی کبھی میٹنگز ہوئی ہیں؟ اگر اس قانون پر عمل ہوا ہوتا تو ایک شہری کی بھی ہلاکت نہ ہوتی۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا ڈسٹرکٹ راولپنڈی کیلئے مری کے حوالے سے 2010 سے کوئی ڈسٹرکٹ پلان ہے؟ 2010 میں قانون بنا، آپ 2021 میں عدالت کو بتا رہے ہیں کہ ہمیں چیک کرنا ہے، اس کیس میں تو کوئی انکوائری کی

ضرورت ہی نہیں، اس قانون پر این ڈی ایم اے نے عمل کرانا تھا،اگر ڈسٹرکٹ پلان ہوتا تو یہ نہ ہوتا جو کچھ ہوا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا باہر جاکر تقریریں سب کرتے ہیں، قانون پر عملدرآمد کوئی نہیں کرتا، سب لگے ہوئے ہیں مری کے لوگ اچھے نہیں، ان کا کیا قصور ہے؟ بلاوجہ سب مری کے لوگوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ممبر این ڈی ایم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اموات کے ذمہ دار آپ ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت اس پر فیصلہ دے۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ اس قانون میں جتنے لوگ ہیں وہ سب اور پوری ریاست ذمہ دار ہے، اگر نیشنل کمیشن کی میٹنگ2018 کے

بعد نہیں ہوئی تو ذمہ داری آپ پر ہی عائد ہوتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم کمیشن ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرائے، یہ بہت اہم معاملہ ہے، آئندہ جمعے تک رپورٹ جمع کرائیں۔اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آئندہ ہفتے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس بلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اجلاس بلا کر ذمہ داروں کا تعین کریں، چیئرمین این ڈی ایم نے کیا یہ قانون پڑھا ہے؟11سال میں یہ نہیں بتا سکے کہ ڈسٹرکٹ پلان ہے یا نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ پلان ہوتا تو کوئی ہوٹل والاروپیہ نہیں لےسکتا تھا مری والوں کو بر بھلا مت کہیں جوذمہ دارہیں ان کخلاٹف کاروائی کریں ،متعلقہ قانون پرعملدرآمد نہ کرانے والوں کی نشاندہی کریں ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جائے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طیب شاہ کی زیادہ وقت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا معاملہ ہے، اس دوران کوئی اور سانحہ ہوگیا تو ذمہ دار کون ہوگا، ذمہ داروں کا تعین کرکے آئندہ جمعہ تک عدالت کو آگاہ کریں۔بعدازاں عدالت نے سانحہ مری پر تحقیقات کی سماعت آئندہ جمعے (21فروری ) تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں