16

اسلام آبادمیں رواں سیزن کے سب سے زیادہ ڈینگی کیسز رپورٹ

رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس میں ڈینگی وبا کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔

مزیدپڑھیں: جڑواں شہروں میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ

مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ روزانہ فوگنگ/فومیگیشن، جھاڑو اور دیگر انسداد ڈینگی پھیلانے کی سرگرمیوں کو یقینی بنا کر وبا کے خلاف سخت اقدامات کریں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر زعیم ضیا نے بتایا کہ اسلام آباد میں بخار کے 117 کیسز رپورٹ ہوئے جو 2021 میں سب سے زیادہ کیسز تھے۔

اس سے قبل 6 اکتوبر کو 96 اور 30 ستمبر کو 94 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

ڈی ایچ او نے بتایا کہ کل 117 کیسز میں سے 80 دیہی علاقوں سے اور 37 شہری علاقوں جبکہ پولی کلینک میں 2، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی میں ایک، کیپیٹل ہسپتال اور نجی ہسپتالوں میں 48 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر زعیم ضیا نے بتایا کہ ترلائی سے 33، علی پور سے 16، کورال سے 14، ترنول سے 9، کرپا اور سوہان سے 3-3 اور روات سے 2 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں ڈینگی بخار کے کیسز کی تعداد 932 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 یا ڈینگی، دونوں کی علامات میں فرق کیسے کریں؟

ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں سے 625 اور شہری علاقوں سے 307 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ . ڈاکٹر زعیم ضیا نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت میں 287 گھروں کے اندرونی جبکہ 317 فوگنگ کی سرگرمیاں کی گئیں تاکہ ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیموں نے جی سیون، بھارہ کہو، راوت اور ماڈل ٹاؤن اور کورال یونین کونسلز میں لاروا کے ساتھ 47 کنٹینر مثبت پائے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارہ کہو، روات اور ماڈل ٹاؤن یونین کونسلوں میں 13 گھروں میں پانی جمع تھا۔

راولپنڈی

راولپنڈی میں جمعہ کو 57 ڈینگی کے مریض ہولی فیملی ہسپتال، بے نظیر بھٹو ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے جس کے بعد ڈینگی مریضوں کی تعداد 442 ہوگئی۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ زیادہ تر مریض کینٹ کے علاقوں سے آئے ہیں۔

پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 20 مریض آر سی بی علاقوں سے، ایک سی سی بی، 8 شہر کے علاقوں سے اور 17 پوٹھوہار ٹاؤن سے آئے ہیں۔

مزیدپڑھیں: سائنسدان ڈینگی کا مؤثر علاج دریافت کرنے میں کامیاب

ہیلتھ اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بیشتر کیسز آئی جے پی روڈ، مسریال روڈ، افشاں کالونی، قاسم مارکیٹ، شیلی ویلی، ٹینچ بھٹہ، پیرواڈھائی، شمس آباد، اقبال ٹاؤن، کھنہ پل، کوری روڈ، سفاری ولاز کے آس پاس کے علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان گھروں کے مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں ڈینگی مچھر پائے جائیں گے۔

تاہم اب تک کمرشل آؤٹ لیٹس کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں ڈینگی پایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میونسپل کارپوریشن شہر کے مختلف علاقوں میں ٹائر کی دکانوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے میں ناکام رہی جہاں بارش کا پانی جمع ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ سول ڈیفنس کو بھی ایسے علاقوں کو چیک کرنے کا کام سونپا گیا تھا لیکن ڈینگی کیسز سامنے آنے کے باوجود اس کی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں