35

اوکاڑہ خواجہ سراؤں کا ڈی پی او آفس کے سامنے احتجاج

اوکاڑہ ہمارے گرو ہمیں 20 لاکھ 10 اور 5 لاکھ میں فروخت کر دیتے ہیں۔خواجہ سراء

اوکاڑہ ہم سے جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا ہے۔خواجہ سراء

اوکاڑہ گرو مافیا میں خالد عرف پنکی،امین اور ایک نگینہ عرف حسنینی شامل ہیں۔خواجہ سراء

اوکاڑہ ان گرو مافیا کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔خواجہ سراء مظاہرین

اوکاڑہ اگر ہم جسم فروشی کا کام کرنے سے انکار کریں تو ہمیں مختلف قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں۔خواجہ سراء

اوکاڑہ گرو مافیا کیجانب سے بنائے گئے اپنے قوانین کے تحت ہمارا حقہ پانی بند کردیا جاتا ہے۔خواجہ سراء

اوکاڑہ ہمیں 25 ہزار یا 50 ہزار کا جرمانہ کردیا جاتا ہے۔خواجہ سراء

اوکاڑہ ہمارے علاوہ بہت سے ایسے مجبور لاچار ہیں جو ان گرو مافیا کے ظلم سہہ رہے ہیں۔خواجہ سراء

اوکاڑہ ہمیں کالز،ایس ایم ایس اور وائس میسجز کے ذریعے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔خواجہ سراء

اوکاڑہ اگر ہم میں سے کسی کو بھی کچھ ہوا تو گرو مافیا اسکا ذمہ دار ہو گا۔خواجہ سراء

اوکاڑہ خواجہ سراء مظاہرین کا اپنے ساتھ ہونیوالے مظالم کیخلاف وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں