6

آئل ریفائنریز کیلئے 10 سالہ ٹیکس چھوٹ ختم

ریفائننگ انڈسٹری کے ساتھ بات چیت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے 10 سالہ ٹیکس چھوٹ کا تحفظ ختم کرتے ہوئے موجودہ آئل ریفائنریز کے فنانس اپ گریڈ میں حکومتی شراکت کو کم اور تعمیل کی ضروریات کو بڑھایا ہے۔

 مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) نے ماڈرن ریفائنریز کے لیے ایک مراعاتی پیکج منظور کیا تھا جس میں 20 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ شامل تھی لیکن تجدید نو کے لیے موجودہ ریفائنریز کو اس قسم کا تحفظ دینے سے انکار کردیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے اب ’سی سی او ای‘ کی جانب سے ملک میں چلنے والی پرانی ریفائنریز کو دی جانے والی مراعات کے حوالے سے اٹھائے گئے دونوں اعتراضات ختم کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خفیہ ایجنسی نے آئل ریفائننگ پالیسی پر اعتراضات اٹھا دیے

علاوہ ازیں 10 سالہ ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے اور حتمی مسودے میں پہلے سے حکومتی شراکت کو 30 فیصد کر دیا گیا ہے کیوں کہ کمیٹی نے 40 فیصد کو مسترد کردیا تھا۔

یہ شراکت پیٹرول اور ڈیزل پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی کے ذریعے حاصل کی جانی ہے اور موجودہ ریفائنریز کے اپ گریڈ کو فنانس کرنے کے لیے خصوصی ریزرو اکاؤنٹ میں رکھی جانی چاہیے اور پہلے ہی 22-2021 کے فنانس بل میں شامل ہے۔

نظر ثانی شدہ پالیسی کے تحت ریگولیٹر یا حکومت پاکستان کی جانب سے موجودہ ریفائنریز کے لیے ریٹ آف ریٹرن کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی اور ریفائنریز کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کھولنے اور چلانے کی اجازت ہوگی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے تیل کمپنیوں، ریفائنریز کا آڈٹ شروع کردیا

پالیسی کے تحت انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ برآمدی آمدنی کا ایک خاص حصہ غیر ملکی کرنسی میں رکھیں اور اگر ہو تو آپریشنل ضروریات کو پورا کریں۔

پالیسی میں کہا گیا کہ یکم جنوری 2022 سے 31 دسمبر 2027 تک موٹر گیسولین، تمام اقسام کے ڈیزل کے علاوہ ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی دیگر سفید مصنوعات پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی کی صورت میں ٹیرف تحفظ ہوگا۔

ہر ریفائنری کی جانب سے اپ گریڈیشن/موڈرنائزیشن/توسیع کے لیے ایک ‘خصوصی ریزرو اکاؤنٹ’ نیشنل بینک میں کھولے گئے اکاؤنٹ کے علاوہ رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آئل ریفائنریز، کمپنیوں کو ایندھن کی فراہمی میں اضافے کی ہدایت

نظر ثانی شدہ ٹیرف ڈھانچے (ریفائنریز کے لیے موجودہ قیمتوں کا طریقہ کار سے اوپر) کی بنیاد پر ریفائنریز کی کمائی گئی کوئی بھی بڑھتی ہوئی آمدنی (خالصتاً ٹیکس) ‘خصوصی ریزرو اکاؤنٹ’ میں منتقل کی جائے گی۔

یہ کمپنی کے اکاؤنٹس کی کتابوں میں الگ سے ظاہر ہوگا جو خصوصی طور پر اپ گریڈیشن، موڈرنائزیشن یا توسیعی منصوبوں کے لیے استعمال ہوگا اور منافع کی تقسیم یا نقصانات کی ایڈجسٹمنٹ یا موجودہ ریفائنری کے کسی دوسرے عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ریفائنریز متعلقہ اپ گریڈیشن، موڈرنائزیشن یا توسیعی منصوبے کے لیے ای پی سی کا کانٹریکٹ ملنے کے بعد ‘اسپیشل ریزرو اکاؤنٹ’ سے (رقم) نکالنے کی حقدار ہوں گی۔

علاوہ ازیں ‘اسپیشل ریزرو اکاؤنٹ’ سے نکالی گئی رقم کو تناسب بنیاد پر استعمال کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں