52

آمدن میں اضافہ نہیں لیکن پی آئی اے کے خسارے میں 18 ارب روپے کی کمی

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وبا کے باعث آمدن میں کمی کے باوجود اس کے خسارے میں تقریباً 18 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔
سال 2020 میں قومی ایئر لائن کا خسارہ 52.6 ارب روپے سے کم ہو کر 34.64 ارب روپے رہ گیا۔ یاد رہے کہ ن لیگ کے دور حکومت کے آخری سال میں پی آئی اے کا خسارہ 67 ارب روپے تھا۔
پی آئی اے کی جانب سے سٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2020 کو ختم ہونے والے پی آئی اے کے مالی سال میں کل آمدنی 94.98 ارب روپے رہی۔ سال 2019 میں پی آئی اے کی آمدنی 147 ارب 50 کروڑ روپے تھی۔
پروازوں کی تعداد میں کمی کے باعث ایئر کرافٹ فیول کی خریداری میں کمی ہوئی ہے۔ سال 2020 میں ایئر کرافٹ فیول کی مد میں 21.15 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ سال 2019 میں اس مد میں 50 ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔
انتظامی اخراجات کی مد میں بھی 50 کروڑ روپے کمی کی گئی ہے۔ سال 2020 میں انتطامی اخراجات پانچ ارب 70 کروڑ روپے رہے جبکہ مالی سال 2019 میں انتظامی اخراجات 6 ارب 20 کروڑ روپے تھے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں سول ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ 2019 میں پی آئی اے کا قرضہ 286 ارب روپے تھا تاہم اس قرضے کے اوپر سود کے باعث بیلنس شیٹ پر 2019 میں صرف قرضوں کی مد میں ماہانہ 64 کروڑ روپے کا خسارہ براشت کرنا پڑا۔
اس حوالے سے سے سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے میں قرضوں کا بوجھ سابق ادوار میں لیے گئے قرضوں کی وجہ سے بہت زیادہ ہے جو خسارے کا باعث بن رہا ہے۔ تاہم موجودہ انتطامیہ نے اس حوالے سے پالیسی میں تبدیلیاں کی ہیں۔ غیر منافع بخش روٹس ختم کرکے منافع بخش روٹس پر پروازیں بڑھائی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں