31

آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا، پرویز خٹک کی عمران خان پر شدید تنقید

ملک میں گیس بحران کے معاملے پر پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران وزیر دفاع پرویز خٹک نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران گیس کے معاملے پر حماد اظہر اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔ جس کے بعد وزیر دفاع اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

اجلاس کے دوران پرویز خٹک اور وزیراعظم عمران خان بھی آمنے سامنے آئے، وزیردفاع نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیراعظم پر بھی تنقید کی۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔

اسی دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر آپ مجھ سے سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔ مجھے بلیک میل مت کرو، ووٹ نہیں دینا تو مت دو، میرے کوئی کارخانے نہیں ہیں، مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا ،میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں، مجھے کوئی حکومت کا شوق نہیں، میری جنگ ملک کے مفاد کی جنگ ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ٹی وی دیکھ کر حیران ہو گیا کہ اتنا بڑا طوفان کھڑا کردیا گیا ہے، آپ لوگوں نے اتنا بڑا ہنگامہ کردیا، میڈیا کو کہتا ہوں اس کو روکے، میں سگریٹ پینے باہر گیا تھا، ہمارے صوبے میں گیس کا مسئلہ ہے، میرا سوال تھا ہماری گیس کی سکیمیں نہ روکی جائیں، ہماری اندرونی باتیں ہیں، پارٹی میں ہر طرح کی بات ہوتی ہے، ہم نے کوئی سخت بات نہیں کی، درخواست کی ہے کہ اسکیمیں نہ روکی جائیں، میں وزیراعظم کے خلاف نہیں، نہ ہو سکتا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پرویز خٹک کو اپنے چیمبر میں طلب کرلیا اور پرویز خٹک سے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ہونے والی گفتگو پر بات چیت کی، اس دوران وفاقی وزیر عمر ایوب بھی موجود تھے۔اس موقع پر وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ اجلاس میں اراکین نے گیس سے متعلق سوالات کئے، اراکین کو سوالات پر مطمئن کرنے میں کامیاب رہا، وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں گیس کے ذخائر کم ہورہے، باہر سے گیس منگواکر گھریلو ضروریات پوری کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ایم کیو ایم نے منی بجٹ میں ٹیکس ترامیم پر گفتگو کی، اور مطالبہ کیا کہ بنیادی اشیاء ضروریہ پر ٹیکس نہ لگائیں، جس پر وزیراعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے، کوئی ایسا اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے جس سے عوام پر بوجھ پڑے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نور عالم نے بھی سخت سوالات کرئے ہوئے پوچھا کہ کیا سٹیٹ بینک کی خود مختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاونٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کو دیں گے؟ کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس پانی بجلی ملے گا؟

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں