177

اہم قدم،بلوچستان کی 80 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ کی سہولت دینے کیلئے منصوبوں کا آغاز

ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم، بلوچستان کی 80 فیصد آبادی کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت یقنی بنانے کیلئے درجنوں منصوبوں کا آغاز

وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکشن کے تحت بلوچستان کے میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے منصوبوں کا عملی طور پر آغاز کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی بلوچستان کیلئے 2 ارب روپے سے زائد مالیت سے براڈ بینڈ سروس کی فراہمی کے منصوبے کی شروعات کی گئی ہے۔

منصوبے سے تربت، کیچھ، دشت، پنجگور اور اطراف کے 23 ہزار 964 مربع کلومیٹر علاقے میں 306 پسماندہ دیہاتوں کے 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد رہائشی افراد مستفید ہوں گے۔

اس حوالے سے 2 اپریل کو یونیورسل سروس فنڈ کے ہیڈ آفس میں تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق، وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال، سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی ، سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن میں پورے پاکستان خاص طور پر بلوچستان کو ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی خصوصی ہدایت شامل ہیں۔ آئندہ ڈھائی سے تین سالوں میں بلوچستان کی 60 سے 80 فیصد آبادی کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے 9 ارب روپے سے زائد کے درجنوں منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جبکہ نوجوانوں کی تربیت اور انھیں ہنر مند بنانے کے کئی منصوبے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم گوادر سے لے کر چاغی، نوشکی، مستونگ، قلات بلکہ ہر اُس علاقے میں فائبر آپٹیکل کیبل بچھانے اور براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی کا منصوبہ شروع کررہے ہیں جہاں نیٹ ورکنگ کمزور یا بالکل بھی دستیاب نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا آج کی یہ تقریب 2 ارب روپے کے ہمارے اس منصوبے کی کڑی ہے جس کے ذریعے 18 ماہ کی مختصر مدت میں ضلع کیچھ کے 23 ہزار 964 مربع کلومیٹر کے علاقوں میں تیز ترین انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

سید امین الحق نے کہا کہ بلوچستان کے دو ہزار سے زائد علاقوں اور20 لاکھ کی آبادی کو یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے 09 ارب روپے کی لاگت سے ہائی سپیڈ تھری جی فور جی انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

جنوبی بلوچستان کیچ، پنجگور، گوادر، چاغی، نوشکی، بولان، مستونگ، زیارت اور نصیرآباد میں پراجیکٹ شروع ہوچکے ہیں اور مختلف مراحل میں ہیں۔ کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں ایک ماہ کے اندر منصوبے شروع ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں