66

ایسا وقت بھی آیا جب گھر کے باہر پیسے واپس مانگنے والوں کی قطاریں تھیں: بابر علی

پاکستان فلم وڈرامہ انڈسٹری کے مقبول اداکاربابر علی کا کہنا ہے ان کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ جب ان کے گھر کے باہر پیسے واپس لینے کے لیے آنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔

اداکار حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے شو میں شریک ہوئے اور اپنی زندگی کے مشکل وقت سے پردہ اٹھایا۔

بابر علی نے بتایا کہ ایک وقت ایسا تھا جب میں بطور ہیرو 80 فلمیں کیا کرتا تھا لیکن پھر مجھے راتوں رات ولن کے لیے کاسٹ کیا جانے لگا۔

اداکار نے بتایا ایک رات ایسی آئی جب میرے  60 ، 70 فلمیں ایک ساتھ ہاتھ سے نکل گئیں اور یہ اس وقت ہوا جب کراچی میں گڈانی پر فلم کی شوٹنگ کے دوران جہاز میں حادثہ ہوا اور میں 110 فٹ سے نیچے گرگیا، میرے پاؤں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور جب مجھے ہوش آیا تو مجھے ڈاکٹر نے بتایا کہ میں 6 مہینے کے لیے اب بیڈ سے بھی نہیں اٹھ سکتا۔ 

اداکار کے مطابق پھر جو لوگ مجھے فلموں کے لیے سر آنکھوں بٹھارہے تھے میرے گھر کے باہر پیسے لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔لیکن مجھے ایک بات یاد تھی میرے والد صاحب کہا کرتے تھے اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا۔

بابر علی کاکہنا تھا کہ اور پھر ایسا ہی ہوا ، پاؤں میں پلسٹر کا چوتھا روز تھا اور مجھے سید نور کی فلم ‘مہندی والے ہاتھ’ اور خلیل الرحمان صاحب کی فلم ‘گھر کب آؤ گے’ کے لیے کال آگئی۔ ‘انھوں نے مجھے اپنی فلموں کے لیے ولن کے کردار کی آفر کی ، اگرچہ اس کردار کو قبول کرنا میرے لیے مشکل تھا کیوں کہ میں انہی اداکاراؤں کے ساتھ بطور ہیرو کام کرچکا تھا لیکن پھر بھی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کی مجھے اس مرحلے پر بھی کامیابی اور عزت عطا فرما۔’

بابر علی نےمزید بتایا کہ انہوں نے بطور ولن اتنا معاوضہ لیا جتنا وہ کبھی ہیرو ہوتے ہوئے نہیں لیتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں