110

ایک جماعت کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے ، پھر اس سے مذاکرات ہوتے ہیں ، شاہد خاقان

مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایک جماعت کو پہلے کالعدم قرار دیا جاتا ہے پھر اس سے مذاکرات ہوتے ہیں ، رمضان کے مہینے میں جو کچھ لاہور میں ہوا اس کے حقائق سامنے نہیں آئے ۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعظم کی گزشتہ رات کی تقریر کی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آئی ، قوم پریشان ہے ہمارا وزیر اعظم کیا باتیں کرتا ہے ، ملک کے معاملات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں 

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس حکومت کا پانچواں وزیر خزانہ آچکا ہے ، آج ہر شخص وزیر خزانہ بنا ہوا ہے ، جو وزیر ایک عہدے پر نالائق ہوتا ہے وہ دوسرے عہدے پر بھی نالائق ہوگا ، وزراءکو آگے پیچھے کرنے سے معاملات حل نہیں ہو سکتے ۔ یہ حکومت نہیں سرکس ہے ، چلتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم میں ہمت ہوتی تو پارلیمنٹ میں آکر تقریر کرتے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں