24

بلوچستان میں 70 سال سے پسماندگی، مصطفی کمال کا کوئٹہ میں جلسے سے خطاب

70 سال سے ایم این اے، ایم پی ایز اور وزراء اعلیٰ موجود ہیں، ایک دن ایسا نہیں گزرا کہ کوئی ایک عہدہ بھی خالی ہو۔عوام اتنی پسماندہ ترین ہوگئی کہ وہ ان سرداروں کے سامنے مجبور ہے لیکن ریاست تو مجبور نہیں ہے، ریاست عوام سے براہ راست بات کرے۔ بلوچستان میں 70 سال سے حکمرانی کرنے والوں نے ناانصافی، پسماندگی اور اشکوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مصطفیٰ کمال کا کوئٹہ میں جلسے سے خطابپاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ آج کے تاریخی جلسہ عام نے پاکستان کو بتا دیا کہ آنے والا دور پی ایس پی کا ہے۔ پاکستان نے ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ لیا۔ پانچ سال پہلے دو لوگوں سے شروع ہونے والی سیاسی جماعت آج بلوچستان کی واحد امید بن گئی ہے۔ مزید 5 سال میں ہم پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہونگے، تمام ایوانوں میں پاک سرزمین پارٹی کے عوامی نمائندے ہونگے گے۔

نہوں نے کہا پاک سرزمین پارٹی نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ پاکستان کیلئے ماڈل ہے، جیسے کراچی میں امن و امان قائم ہوا ہے، ویسے ہی بلوچستان میں بھی ہوگا۔ بھارت بلوچستان میں کلبھوشن جیسے ایجنٹ اس لیے بھیجتا ہے یہاں محرومیاں زیادہ ہیں، ریاست کو بلوچستان کے محرومیاں دور کرنی ہونگی، جہاں سے جانور پانی پیتے ہیں وہاں سینکڑوں میل دور سے ہماری مائیں بہنیں پانی لینے آتی ہیں، بلوچستان کی محرومیاں دور ہو گئیں تو بھارت پاکستان میں سازشیں نہیں کر پائے گا۔

انہوں نے مزید کہا نوجوانوں سے کہتا ہوں دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر ریاست کے خلاف کھڑے نہ ہوں، بلوچستان کے ناراض لوگوں کو کہتا ہوں بھارت آپکا دوست نہیں، بھارت آپکا اور پاکستان کا دشمن ہے، جس نے بھی بھارتی ایجنسیوں کی بات مانی وہ ناصرف خود تباہ برباد ہوئے بلکہ ملک کو بھی تباہ و برباد کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں