27

بلوچستان کی گریڈ 17 کی ایک سرکاری خاتون افسر فریدہ ترین کو حکومت نے ایک ماہ کے عرصے میں چار مرتبہ ٹرانسفر کردیا

بلوچستان کی گریڈ 17 کی ایک سرکاری خاتون افسر فریدہ ترین کو حکومت نے ایک ماہ کے عرصے میں چار مرتبہ ٹرانسفر کردیا۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واقعے پر سول سروسز افسران کی تنظیم اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بلوچستان حکومت کے اس فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے ۔خبر کے منظر عام پر آتے ہی گزشتہ روز سے ٹویٹرصارفین نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرنا شروع کیا کہ ٹویٹر پر اس سے متعلق ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ میں آگیا، سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کو سپریم کورٹ کے فیصلوں اور سول سروسز رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان جام کمال سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گریڈ 17 کی فریدہ ترین اکتوبر 2020سے چیف سیکرٹری بلوچستان کے آفس میں بحیثیت قائم مقام ڈپٹی سیکرٹری سٹاف کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں، رواں برس 11 فروری کو ان کا تبادلہ بطور اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ شہر کردیا گیا۔

ابھی اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کو سنبھالنے کا ان کا پہلا دن تھا کہ ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا جس میں ان کے تبادلے کو منسوخ کردیا گیا، 5 روز بعد انہیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ میں بطور سیکشن آفیسر (شعبہ سروسز11)تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

اس عہدے پربراجمان ہوئے ابھی انہیں 10 دن بھی نہیں گزرے تھے تبادلے کے نویں روز 25 فروری کو ان کا تبادلہ اسی محکمہ میں بطورشعبہ سروسز1 کے عہدے پر کردیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ16 مارچ کو صرف 20 دن بعد ایک بار پھر ان کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں محکمہ صنعت بطور سیکشن آفیسر تعینات کرنے کا حکم صادر فرمادیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے اپنے رولز آف بزنس 2012 کے تحت سول سروسز ملازمین کے عہدوں پر تعیناتی کی کم از کم مدت تین سال ہے، تاہم بلوچستان حکومت نے اس قانون کی پرواہ نہیں کی اور ایک خاتون افسر کو ایک ماہ کے دوران 4 بار ٹرانسفر کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں