22

بڑی2 جماعتوں کے درمیان سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے

اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل 2 بڑی جماعتوں کے درمیان سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دونوں جماعتوں کی جانب سے عوامی سطح پر اس اہم عہدے پر اپنے حق کا دعویٰ کیا گیا۔
دونوں جماعتوں نے اس سلسلے میں لابی بھی شروع کردی اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس ضمن میں چھوٹی جماعتوں کے سربراہان سے بات چیت بھی کی۔پیپلز پارٹی نے تسلیم کیا کہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی کے بدلے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ(ن) کو دینے پر اتفاق ہوا تھا لیکن کہا گیا کہ شکست کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات میں بھی یہ معاملہ اٹھایا اور اس کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عہدہ مسلم لیگ (ن) کو ملنے کا فیصلہ کیا جاچکا تھا اور اب اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دینے کا فیصلہ پی ڈی ایم کمیٹی نے کیا تھا اور اس کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے کوئی لینا دینا نہیں۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے لیکن انہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ اپوزیشن لیڈر کے لیے اعظم تارڑ کو نامزد کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے نہ صرف اسے مسترد کردیا تھا بلکہ اس پر احتجاج بھی کیا تھا کیوں کہ وہ بینظیر بھٹو قتل کیس کے ملزمان پولیس افسران کے وکیل تھے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی جانب اسے اس واضح اعلان کے چند گھنٹوں بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور پی ڈی ایم کے سینئر نائب صدر راجا پرویز اشرف نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس معاملے کو اپوزیشن جماعتیں جمہوری روایات کے مطابق اتفاق رائے سے حل کرلیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے، پی ڈی ایم تباہ ہوگئی، اسد عمر
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی21 سینیٹرز کے ساتھ اپوزیشن کی واحد سب سے بڑی جماعت ہے اور جمہوری روایات کے مطابق پارٹی سمجھتی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اسے ملنا چاہیے۔
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 2 اہم پارلیمانی عہدے یعنی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ درست اور مناسب ہوگا کہ سینیٹ چیئرمین کا تیسرا اہم پارلیمانی عہدہ ایوانِ بالا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کو دیا جائے بجائے اس جماعت کے کہ جس کے پاس پہلے ہی اہم پارلیمانی عہدے موجود ہوں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں