94

تائیوان کا چین کے 20 جنگی طیاروں کی تائیوان کی فضائی حدود میں پروازوں کا الزام

تائی پے (ڈیلی پاکستان آن لائن )تائیوان کی وزارت دفاع کی جانب سے الزام عائد کیا گیاہے کہ جمعہ کے روز چین کے 20 فوجی طیاروں نے ملک کی دفاعی حدود میں داخل ہوئے اور پروازیں کیں جو کہ چین کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی مہم جوئی ہے جس کے باعث آبنائے تائیوان میں کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ ہوا ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تائیوان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیاہے کہ ہم نے اپنے فضائی دفاع کی شناخت والے علاقے کے جنوب مغربی حصے میں دخل اندازی کی نگرانی کیلئے میزائل تعینات کر دیئے ہیں ۔ بیان میں یہ کہا گیاہے کہ تائیوان کے طیاروں نے چینی طیاروں کو خبردار بھی کیا ۔تائی پے نے اسے چین کی جانب سے اب تک کی جانے والی سب سے بڑ ی مہم جوئی قرار دیاہے  

رائٹرز کے مطابق چین کے کچھ طیاروں نے تائیوان کی جنوبی فضائی حدود میں پرواز کی اور باشی چینل کے علاقے سے گزرے جو کہ جزیرہ نما ملک کو فلپائنز سے الگ کرتاہے ۔تائیوان کی سیکیورٹی کی منصوبہ بندی کا علم رکھنے والے شخص نے رائٹرز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ چینی فوج یہ مشقیں اس لیے کر رہی ہے تاکہ وہ باشی چینل سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں کے خلاف کارروائی کانقشہ بنا سکے ۔

تائیوان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ دفاعی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے چینی جہازوں میں چار جہاز H-6K بومبرز تھے جو کہ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ 10 جے 16 فائٹرز طیارے تھے ، ان کے علاوہ دیگر جہاز بھی شامل تھے ، یہ مہم جوئی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب تائیوان میں دو لڑاکا طیاروں کے آپس میں ٹکرانے کے بعد ٹریننگ مشن معطل کیا گیا تھا

تائیوان کے الزامات پر چین نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیاہے تاہم بیجنگ معمول کے مطابق یہ کہہ رہاہے کہ اس طرح کی مشقوں میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہے ، یہ ملک کی خود مختاری کی حفاظت کی صلاحیت کو دکھانا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں