91

تحریک لبیک کا وزیرآباد میں دھرنا ختم

پنجاب حکومت نے معاہدے کے مطابق تحریک لبیک کی مجلس شوری کے اراکین کو رہا کر دیا جس کے بعد تحریک لبیک نے وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم کر دیا۔

22 اکتوبر کو لاہور سے روانہ ہونے والا تحریک لبیک کا مارچ براستہ جی ٹی روڈ 29 اکتوبر کو وزیرآباد پہنچا تھا۔تاہم وفاقی اور پنجاب حکومت کے ساتھ معاہدے کے مطابق مارچ کے شرکاٗ 11 روز سے وزیرآباد بائی پاس کے قریب ایک پارک میں مقیم تھے۔

معاہدے کے تحت حکومت پنجاب نے آج تحریک لبیک کی مرکزی مجلس شوری کے تین اراکین علامہ فاروق الحسن قادری، علامہ غلام غوث بغدادی اور انجینئر حفیظ اللہ علوی کو رہا کیا۔

بعدازاں اراکین شوریٰ نے دھرنے میں پہنچ کر کارکنوں سے خطاب کیا اور شرکاٗ کو واپس اپنے گھر لوٹنے کی ہدایت کی جس کے بعد دھرنے کے شرکاء نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومتی معاہدے کے 70 فیصد نکات پر عمل ہو گیا ہے اور امیر تحریک لبیک علامہ سعد رضوی کی رہائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اگر علامہ سعد رضوی کو رہا نہ کیا گیا تو لاہور میں دھرنا دیا جائے گا۔

تحریک لبیک سے پابندی ہٹانے کی منظوری

چھ نومبر کو تحریک لبیک پاکستان سے تمام پابندیاں ہٹانے کی منظوری دے دی گئی ۔ ‏وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی پر بھی پابندی ہٹانے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے پابندی ختم کرنے کی منظوری دی۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے کابینہ کو پابندی ہٹانے کی سمری بھیجی تھی۔ پہلے مفتی منیب الرحمان نے اعلان کیا تھا کہ حکومت اور ٹی ایل پی میں معاہدہ ہوگیا ہے جس کے بعد اب یہ اقدام کیا گیا ہے ۔

حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کا معاہدہ ، مفتی منیب

اس سے پہلے اکتیس اکتوبر کو معروف عالم دین اوررویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہا تھا کہ حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، علی محمد خان اور مفتی منیب الرحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جبکہ تحریک لبیک شوریٰ کے علامہ غلام عباس فیضی اور مفتی محمد عمیر بھی پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔

مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے جوان دفاع وطن اور پولیس کے جوان فرض منصبی ادا کرتے ہوئے شہید ہوئے، تحریک لبیک کے دھرنے پر وزیر اعظم نے سنجیدہ اور ذمہ داران پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی قائم کی، حکومتی کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، اسد قیصر اور علی محمد خان شامل تھے۔

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں معاہدہ طے پا گیا ہے، حکومت اور ٹی ایل پی معاہدے کو حافظ سعد رضوی کی تائید حاصل ہے۔

مفتی منیب الرحمان کامزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ٹی ایل پی دھرنے سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس میں سنجیدہ، مدبر اراکین پر مشتمل ہے، کمیٹی کو اختیارات دینےپر وزیراعظم کے مشکور ہیں، فریقین کے درمیان اتفاق رائے سے طے ہونے والا معاہدہ کسی کی فتح یا شکست نہیں بلکہ یہ پاکستان، اسلام اور انسانی جانوں کی حرمت کی فتح ہے اور یہ مذاکرات جبر اور تناو کے ماحول میں نہیں بلکہ سنجیدہ ماحول میں ہوئے، دونوں فریقین کی جانب سے مذاکرات میں سنجیدہ رویہ اختیارکیا گیا، تناو کی فضا میں جذبات کو قابو میں رکھنا دانشمندی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں