8

جام کمال کی وزارت اعلیٰ بچانے کی ہر کوشش ناکام

بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین و اتحادیوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف دو روز بعد تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

صوبائی وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بھیجے گئے وفد سے ملاقات ہوئی انہوں نے جام کمال کے لیے مزید وقت مانگا تاہم ‘ہم نے کہا کہ ہم جام کمال کو پہلے ہی تین سال کا وقت دے چکے ہیں، اب مزید وقت نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ناراض اراکین، اتحادیوں اور اپوزیشن کے نمبر پورے ہیں ہمارے پاس 38 سے 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے، ‘ہم خیالوں نے اپنے استعفے لکھ رکھے ہیں، بس اپنے ساتھیوں کا انتظار اگلے 24 گھنٹے تک کریں گے جس کے بعد استعفے جمع کر وا دیئے جائیں گے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ جام کمال خان کو تمام قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے، ناراض اراکین کو اپنا احتجاج ختم کرنے اور حکومت میں شامل ہونے پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے ناراض اراکین صوبائی اسمبلی و وزرا اور اتحادیوں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو 7 اکتوبر شام 6 بجے تک مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دی تھی۔

صوبائی اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ مطالبہ جام کمال کی جانب سے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے استعفے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں جام کمال کو چند صوبائی وزرا اور پارٹی کے اراکین اسمبلی کی مخالفت کا سامنا ہے اور وہ وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں