32

جرمنی میں شامی فوج کے سابق کرنل کو انسانیت سوز جرائم پر سزا

جرمنی کی ایک عدالت نے انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہونے پر شامی فوج کے سابق کرنل انور آر کو عمر قید کی سزا سنادی۔ اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی عالمی دائرہ اختیار کے اصولوں کے تحت عمل میں لائی گئی۔

جرمن صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے شہر کوبلینس کی ایک اعلیٰ عدالت میں چلایا جانے والا یہ پہلا مقدمہ ہے جو انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے تانے بانے شام سے جوڑتا ہے۔ اب دیگر ریاستوں کو بھی غیر ملکیوں کے جنگی جرائم کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

شام کی خفیہ سروس کی برانچ 251 کے انچارج اور کرنل کے عہدے پر فائز رہنے والے انور آر کو شام کی خانہ جنگی کی ابتدا میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب پایا گیا۔ انہوں نے اپریل 2011ء سے ستمبر 2012ء کے دوران چار ہزار قیدیوں کے خلاف پرتشدد جرائم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کی ذمہ داریوں میں شام کے دارالحکومت دمشق کی سلامتی کے معاملات بھی شامل تھے۔ شامی خفیہ سروس کی یہ برانچ ایک جیل سے متصل واقع تھی۔ خیال ہے کہ اس جیل میں اذیت اور تشدد کے شکار کم از کم 30 قیدی ہلاک بھی ہوئے تھے۔مجرم پر قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے دینے، مکوں ، تاروں اور کوڑوں سے زد و کوب کرنے، عصمت دری اور جنسی زیادتی کے علاوہ نیند کی شدید کمی کا شکار بنانے جیسے مجرمانہ افعال کی نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

جرمن عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران جن گواہان کے بیانات سنے گئے ان میں سے بہت سے افراد نے جرمنی ہجرت کی تھی اور کچھ جرمنی میں آباد بھی ہو چکے ہیں۔ انور آر کے خلاف مقدمے میں 17 خواتین اور مردوں نے گواہی دی۔

استغاثہ نے انور آر کے لیے عمر قید کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے کہا تھا کہ وہ جرائم کی شدت کے پیش نظر مجرم کی عمر قید کے پہلے 15 سالوں میں اُس کی رہائی کے تمام امکانات کو رد کر دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں