32

جنسی زیادتی کے الزامات: شہزادہ اینڈریو سے فوجی اور شاہی اعزازات واپس

 بکنگھم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ ملکہ الزبتھ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو سے ان کے فوجی اور شاہی اعزازات واپس لے لیے گئے ہیں۔

 ڈیوک آف یارک کے فوجی ٹائٹل اور شاہی اعزازات ملکہ کو واپس کر دیے گئے ہیں۔  ایک ہی روز پہلے امریکہ میں ایک عدالت نے شہزادہ اینڈریو کی طرف سے ان کے خلاف ایک لڑکی پر جنسی حملے کی کارروائی ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کو خاتون پر جنسی حملہ کرنے کے الزامات میں امریکہ میں دیوانی مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔ جس وقت یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت اس خاتون کی عمر 17 سال تھی۔ورجینیا جُفرے کا دعویٰ ہے کہ شہزادہ اینڈریو نے 2001 میں ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی تھی۔

شہزادے کے وکلا کا کہنا تھا کہ اس کیس کو خارج کر دینا چاہیے۔ وہ 2009 کے ایک معاہدے کا حوالہ دیتے ہیں جو جُفرے نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن نیویارک کے ایک جج نے فیصلہ دیا ہے کہ ان الزامات کی سماعت کی جا سکتی ہے۔

شہزادہ اینڈریو مسلسل ان دعوؤں کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اس وقت بکنگھم پیلس نے کہا تھا کہ وہ اس جاری قانونی معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

مقدمہ خارج کرنے کی اپیل کو نیویارک کے جنوبی ضلعے کے جج لیوس اے کپلان نے اپنے 46 صفحات پر مشتمل فیصلے میں رد کیا، جس کا مطلب ہے کہ اس سال 61 سالہ ڈیوک آف یارک کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو سکتی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جُفرے کہتی ہیں کہ وہ ارب پتی جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں جنسی سمگلنگ اور بدسلوکی کا شکار ہوئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انھیں دوسرے طاقتور مردوں کو بھی سونپا جاتا تھا۔

ملکۂ برطانیہ کے دوسرے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے 2019 میں بی بی سی نیوز نائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں کچھ یاد نہیں کہ کبھی ان کی ورجینیا جُفرے سے ملاقات بھی ہوئی تھی، اور انھوں نے کبھی جفرے کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھے۔

ان کے وکلا کہتے ہیں کہ جُفرے نے 2009 میں ایپسٹین کے ساتھ ہرجانے کے تصفیے کے بعد عدالت میں کہا تھا کہ وہ ایپسٹین سے منسلک کسی اور شخص پر مقدمہ نہیں کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں