93

حکومت کا مالی سال 2022 میں گردشی قرضے میں 425 ارب روپے کمی کا منصوبہ

اسلام آباد: پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ وہ رواں مالی سال کے دوران گردشی قرضے کو بیس ٹیرف کے ذریعے صارفین سے گزشتہ سال کی 230 ارب روپے کی وصولی کے ذریعے تقریباً 425 ارب روپے کم کرکے 18 کھرب 56

کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کو پیش کی گئی گردشی قرضوں سے متعلق رپورٹ میں پاور ڈویژن نے کہا کہ رواں سال کے دوران گردشی قرضے کی 400 ارب روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا جس کی بنیادی وجہ پاور کمپنیوں اور حکومت کی کمزوری ہے۔

تاہم صارفین کے ٹیرف کے ذریعے پچھلے سال کے 230 ارب روپے کی وصولیوں کو یقینی بنا کر اسے 165 ارب روپے تک لایا جائے گا۔

یہ تازہ ترین گردشی قرضہ جات کے انتظامی منصوبے کا حصہ ہے جو فی الحال آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سی سی او ای کی منظوری کے لیے زیر عمل ہے۔

مزید پڑھیں: مالی سال 21-2020 میں گردشی قرضے 2 ارب سے زائد تک بڑھ گئے

گزشتہ روز وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کے زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس ہوا جس میں تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے علاوہ، حکومت پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کے اصولی قرضوں کی ادائیگی اور تقریباً 461 ارب روپے کے اسٹاک کی ادائیگی کا انتظام بھی کرے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں میں تاخیر پر سود کے چارجز اور پی ایچ ایل پر 32 ارب روپے کے مارک اپ کی وجہ سے گردشی قرضے میں 60 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔

گردشی قرضے میں مزید 100 ارب روپے کا اضافہ زیر التوا پیداواری اخراجات جیسے سہ ماہی اور ماہانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، 77 ارب روپے کے تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور 130 ارب روپے ڈسکوز کی ریکوری کے تحت آئے گا۔

پاور ڈویژن نے کہا کہ کے الیکٹرک سے جون 2021 تک تقریباً 292 ارب روپے کی وصولی کی جانی تھی جو سبسڈی پر تنازع کی وجہ سے زیر التوا تھی۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ اس نے رواں مالی سال کے دوران آئی پی پیز کے 461 ارب روپے کے بقایا جات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگست میں گردشی قرضے صرف 13 ارب روپے ماہانہ رہ گئے تھے تاہم ستمبر میں دوبارہ 85 ارب روپے ہوگئے اور اب یہ 23 کھرب 79 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

سی سی او ای کو بتایا گیا کہ جولائی تا ستمبر 21-2020 کے دوران گردشی قرضہ 22 کھرب 54 ارب روپے تھے جو 22-2021 میں اسی مدت کے دوران بڑھ کر 23 کھرب 79 ارب ہوگئے۔

کمیٹی نے ستمبر 2021 کے گردشی قرضوں کی رپورٹ کا جائزہ لیا اور مالی سال 22-2021 کے پہلے تین مہینوں کے دوران قرضوں کے کم جمع ہونے کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: 2023 تک گردشی قرضے 11 کھرب روپے سے زائد ہی رہیں گے

پیٹرولیم ڈویژن نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی ترقی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل

ارب روپے کرنے کا ہدف بنا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں