99

حکومت کی منی بجٹ لانے کی تیاری، مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا امکان

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی ایم ایف کی شرط پر 350 ارب روپے کے ٹیکسوں پر مشتمل منی بجٹ توثیق کیلئے لاء ڈویژن کو بھجوادیا۔

لاء ڈویژن کی توثیق کے بعد کابینہ سے منظوری کیلئے بجٹ پیش کیا جائے گا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد آرڈیننس جاری کرنے یا پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کرنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔ بجٹ کو فوری نافذ کرنے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری کئے جانیکا امکان ہے

موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چوٹ ختم کئے جانے کا امکان ہے۔ زیرو ریٹڈ سیکٹر سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ مکمل ختم کئے جانے کا امکان ہے۔ جن اشیا پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم ہے ان پر بھی سیلز ٹیکس 17 فیصد تک کئے جانیکا امکان ہے۔ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کئے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔

مِنی بجٹ تیار ہوچکا، چیئرمین ایف بی آر

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا ہے کہ مِنی بجٹ تیار ہوچکا ہے ، حکومت جب کہے گی پیش کردیں گے۔

انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو واپس لیا جارہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔

ڈاکٹر اشفاق احمد نے مزید کہا کہ لگژری اشیاء کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے، درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش ہے۔  پٹرولیم مصنوعات پر سیلز  ٹیکس ریفائنری اسٹیج پر لاگو ہوگاالبتہ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پر ٹیکس چھوٹ  برقرار  رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں