23

خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون ڈی پی او

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پر خواتین کو اہم اور بڑے سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دینے کے مواقع کم دستیاب ہوتے ہیں۔

دیگر محکموں میں اگرچہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین ملازمین کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تاہم پولیس کے شعبے میں تاحال خواتین افسران کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

ملک بھر میں 2017 تک پولیس میں صرف 2 فیصد خواتین شامل تھیں اور گزشتہ تین سال میں اس تعداد میں معمولی سا اضافہ ہوا ہے۔

جہاں پولیس میں خواتین کی تعداد کم ہے، وہیں پولیس میں خواتین افسران کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے تاہم اب اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی تعیناتی ہونے لگی ہے، جس سے نوجوان لڑکیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ایسی ہی خواتین افسران میں خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی پہلی ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سونیا شمروز بھی ہیں، جنہیں اعلیٰ عہدے پر تعینات ہوئے کچھ ماہ ہی ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں