108

روس: دھماکا خیز مواد کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 15 افراد ہلاک

روس کے دارالحکومت ماسکو کے قریب واقع دھماکا خیز اور کیمیائی مواد کی فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور ایک شخص لاپتا ہو گیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق  حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے ریازن میں فیکٹری میں آگ لگنے سے تمام ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ایک شخص کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں کیونکہ وہ دھماکے کے بعد سے لاپتا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں بری طرح جھلسنے والے ایک شخص کو ہسپتال میں بھی داخل کرایا گیا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔وزارت ایمرجنسی کی جانب سے بیان میں کہا گیاکہ روس کی حکومت کی جانب سے اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل تصور کی جانے والی ایلاسٹک فیکٹری میں ممکنہ طور پر تکنیکی عمل اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آگ لگی ہو گی۔لیکن مقامی میڈیا نے کہا کہ یہ کمپنی 2015 میں دیوالیہ ہو گئی تھی اور اس کی ورکشاپس کو دھماکا خیز مواد رکھنے کے لیے دیگر کمپنیاں استعمال کرتی تھیں۔وزارت ایمرجنسی نے بتایا کہ فائر فائٹرز کو سب سے پہلے صبح آٹھ بج کر 22 منٹ پر پلانٹ میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد قائم مقام سربراہ واقعے کی جگہ کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔سنگین جرائم کی تحقیقات کرنے والی روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ انہوں نے تحقیقات کے لیے تفتیشی افسران کو بھیجا ہے تاکہ اس بات کا پتا لگایا جا سکے کہ فیکٹری میں صنعتی حفاظتی عمل کی تعمیل ہو رہی تھی یا نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں 170 سے زائد ریسکیو رضاکار کام کر رہے ہیں۔مقامی انتظامیہ کے سربراہ نے تاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جب آگ لگی تو ورکشاپ میں 17 مزدور موجود تھے۔حکام نے بتایا کہ 160 مربع میٹر کے رقبے پر لگی اس آگ کو بجھا دیا گیا ہے اور اب اس سے مقامی لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔روس میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں خستہ حال انفراسٹرکچر اور حفاظتی معیارات کی تعمیل نہ کرنے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں واقعات رونما ہوتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں