60

سندھ میں ایک جعلی تقررنامے پر ایس پی سطح کا افسر 32 سال تک نوکری کرتا رہا

سندھ میں ایک جعلی تقررنامے پر ایس پی سطح کا افسر 32 سال تک نوکری کرتا رہا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔

حیرت انگیز واقعہ کراچی میں پیش آیا جہاں ایک ایک پولیس افسراعجاز ترین 32 سال تک جعلی تقررنامے پر کام کرتا رہا۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اعجاز ترین کی ایس پی لیول پر تعیناتی جعلی لیٹر پر ہوئی اس بات کا انکشاف سینیارٹی کیلئےجمع کروائی گئی ایک اپیل کی تحقیقات کے دوران ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اعجاز ترین کراچی کے مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او تعینات رہا اور ترقی کرتے کرتے سپرٹینڈنٹ پولیس کے عہدے تک پہنچ گیا، اس دوران اعجاز ترین اعلی سیاسی وحکومتی شخصیات بشمول چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اعجاز ترین نے 1989 میں اسلام آباد پولیس میں جعلی تقررنامے کی بنیاد پر بھرتی ہوا اور بعد میں اپنا ٹرانسفر سندھ پولیس میں کروالیا، جعلی تقررنامے پر نوکری کے انکشاف کے بعد اعجاز ترین کو فوری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں