9

سکھر بیراج کی متبادل تعمیر کیلئے فزیبلٹی اسٹڈی پر اتفاق

سندھ حکومت اور عالمی بینک کے درمیان سکھر بیراج کی متبادل تعمیر کیلئے فزیبلٹی اسٹڈی کرانے پر اتفاق ہوگیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ناجی بن ہاسین کے ساتھ ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر بیراج 1932 میں شروع ہوا تھا اور اب اس نے اپنا عرصہ نکال لیا ہے۔

ورچوئل اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ 89 سالہ پرانے سکھر بیراج کے متبادل بیراج کی تعمیر کیلئے فزیبلٹی اسٹڈی کرانے میں ٹیکنیکل مدد فراہم کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ فزیبلٹی اسٹڈی کمپوننٹ ورلڈ بینک کے زیر اہتمام سندھ بیراج امپروومنٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے اور ہم سنجیدگی سے نئے بیراج اور پرانے سکھر بیراج کے متبادل پر غور کر رہے ہیں جو صوبے کی زرعی معیشت کی لائف لائن ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سکھر بیراج صوبے کی لائف لائن ہے اور یہ 7 بڑی نہروں کو پانی فراہم کررہا ہے ، جن میں 3 لیفٹ بینک اور 4 رائیٹ بنک کینال شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ بیراج کی بہتری کے منصوبے میں سکھر بیراج کی فزیبلٹی اسٹڈی کرنے کا ایک کمپوننٹ موجود ہے۔

وزیر آبپاشی نے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کو بتایا کہ صوبائی حکومت سنجیدگی سے سکھر بیراج کے متبادل بیراج کی تعمیر کے بارے میں سوچ رہی ہے جس کیلئے فزیبلٹی اسٹڈی کی ضرورت ہے۔

اس موقعے پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ عالمی بینک کے ماہرین بہت جلد بیراج کا دورہ کریں گے اور دورے دوران ضروری بحث کے بعد سندھ حکومت کو منصوبے کے پی سی ون کی تیاری کیلئے تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی۔ .

ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کے تحت سیوریج سکشن اور جیٹنگ ٹرکوں کے 14 جوڑے خرید کر کے ڈبلیو ایس بی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ سیوریج سکشن اور جیٹنگ ٹرکوں کے 14 جوڑوں کا ایک اور بیچ جس میں 10 مشترکہ ایس اینڈ جے ٹرک ہیں اگلے سال مون سون سیزن سے پہلے خریدی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں