17

شعیب ملک نے آخر کار خاموشی توڑ دی، ٹیم سلیکٹرز کو پیغام جاری کر دیا

سابق کپتان کا کہنا ہے کہ عمر سے قطع نظر فارم اور فٹنس کو دیکھنا چاہیے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکو انٹرویو میں شعیب ملک نے کہا کہ میں ابھی تک سمجھ نہیں سکا کہ ٹیم سے باہر کیوں ہوا تھا،میں اس معاملے کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتا، میرا خیال ہے کہ عمر کتنی بھی ہو اگر کھلاڑی مطلوبہ معیار پر پورا اترے تو فارم اور فٹنس کے ساتھ بطورسینئر بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مینجمنٹ اور ساتھی کھلاڑی اسے عزت دیتے ہیں تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہو سکتی، محمد حفیظ 40سال کی عمر میں بھی اچھا پرفارم کر رہے ہیں، نئے پلیئرز کے ساتھ بات کرتے اور پریکٹس میں مدد دیتے ہیں، سینئر کی موجودگی میں ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے،اگر ٹیم میں افادیت ہوتو عمر سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میری چیف سلیکٹر محمد وسیم سے 2 بار بات ہوئی تھی،میں ماضی میں ان کے ساتھ کرکٹ کھیل چکا ہوں،ہماری اچھے ماحول میں تفصیلی گفتگو ہوئی تھی، انھوں نے کہا تھا کہ آپ ٹاپ 4 میں کھیلیں گے تو بہتر ہوگا، جواب میں میں نے کہا تھا کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کسی پوزیشن پر بھی کھیلنے کے لیے دستیاب ہوں، محمد وسیم نے کہا تھا کہ آپ ہمارے پلان میں شامل ہیں ابھی 14میچز ہیں، پہلے ہاف میں مختلف کمبی نیشن کی آزمائش کرنے کے بعد آخری 8 میچز میں ورلڈ کپ کیلیے ممکنہ کھلاڑیوں کو مواقع دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دوبارہ بات ہوئی تو ان سے کہا تھا کہ پاکستان ٹیم پانچویں نمبر کے بیٹسمین کا خلا محسوس کررہی ہے، میرا اس پوزیشن پر اسٹرائیک ریٹ اچھا رہا ہے، اس پر انھوں نے کہا تھا کہ ہم بھی اسی انداز میں سوچ رہے ہیں، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

وائٹ بال کوچ مقرر کرنے سمیت اب کرکٹ معاملات پر کھل کر بات کرنے کے سوال پر شعیب ملک نے کہاکہ میں نے کرکٹر کے طور پر بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، اب ضرورت محسوس کر رہا تھا کہ کرکٹ کے مسائل پر بات کی جائے، میرے خیال میں کچھ اقدامات فوری اٹھائے جانے اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر دیا، مجھے اپنے لیے بات کرنے کی ضرورت نہیں،2003 میں کم بیک کے بعد سے میرا ریکارڈ بولتا ہے، دنیا میں جس سطح پر بھی کھیلنے کا موقع ملا میں نے اس کا فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔

پاکستان ٹیم کے بیٹنگ مسائل پر انھوں نے کہا کہ ہر بیٹسمین کو اس کے نمبر پر کھلائیں تو بہتر ہوگا، یہ بات درست نہیں کہ کوئی فارم میں ہو تو اس کو ہر نمبر پر کھلانا شروع کر دیں، اس طرح ٹیم بنتی ہے نہ ہی اچھا کمبی نیشن بن سکتا ہے، ہم صرف آج کی بقا کے لیے سوچتے ہوئے فیصلے کر دیتے ہیں، کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے مستقبل کو پیش نظر رکھنا چاہیے، آگے چل کر 2 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور ایک 50 اوورز کی کرکٹ کا میگا ایونٹ آرہا ہے، بیٹنگ آرڈر سیٹ کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو تسلسل کے ساتھ مواقع دینے کی ضرورت ہے۔

شعیب ملک نے کہا کہ حیدر علی باصلاحیت ہیں مگر مینجمنٹ نے پہلے ان کو اوپر کے نمبرز پر کھلایا پھر بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا شروع کر دیا، ہم بہت جلد کسی سے متاثر اور پھر مایوس بھی ہو جاتے ہیں، اگر کسی کو منتخب کریں تو پھر بھرپور سپورٹ بھی فراہم کریں، اگر مقصد ٹرافی جیتنا ہے تو فیصلوں میں تسلسل ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ میری ہیڈ کوچ مصباح الحق سے کوئی ناراضی نہیں،ہم نے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے، وہ میری کپتانی میں کھیلتے تھے اور میں ان کے تحت کھیلا ہوں، ٹیم کی بہتری کے لیے تجاویز دی ہیں، اس موضوع پر اب مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

شعیب ملک کو پی ایس ایل 6میں پشاور زلمی سے اچھی کارکردگی کی امیدیں وابستہ ہیں، انھوں نے کہا کہ کراچی میں ایونٹ بہت اچھا چل رہا تھا اور لوگ بڑے پْرجوش تھے،اس کا اچھے انداز میں مکمل ہونا ضروری ہے، اسی اعلیٰ معیار کے میچز ہوں اور شائقین بھرپور لطف اٹھائیں تولیگ کے مستقبل کے لیے بھی اچھا رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ پشاور زلمی کا اسکواڈ متوازن ہے،ہمیں ایک اچھا اسپنر بھی میسر آگیا، ٹیم کا کمبی نیشن کافی بہتر ہوگیا، فٹنس مسائل کی وجہ سے آخری میچ نہ کھیل پانے والے کپتان اور اہم بولر وہاب ریاض بھی واپس آ چکے ہیں، جو ٹیم جتنا جلدی کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کرتے ہوئے درست کمبی نیشن کھلانے میں کامیاب ہوئی اس کی جیت کے امکانات اتنے ہی روشن ہوں گے۔

شعیب ملک نے کہا کہ ابوظبی میں گرمی بہت زیادہ ہے، کھلاڑیوں کو سخت چیلنج کا سامنا ہوگا مگر اس طرح کے امتحان میں پاس ہونے کا لطف آتا ہے، کنڈیشنزتمام ٹیموں کیلیے ایک جیسی ہیں، بیشتر کھلاڑی سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی اسی نوعیت کی گرمی میں کھیل چکے ہیں، امید ہے کہ مطابقت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائینگے۔

پی ایس ایل میں قیادت نہ کرنے کے سوال پر انھں نے کہا کہ مجھے اب اس کا کوئی شوق نہیں رہا،کیریبیئن پریمیئر لیگ میں گیانا کو بھی انکار کیا تھا مگر ان کے اصرار پر کپتان بن گیا، بطور عام کھلاڑی کرکٹ سے زیادہ لطف اندوز ہوتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا، چھوٹی موٹی غلطیاں سب لوگ کرتے ہیں، میں نے بھی سیکھا ہے کہ کچھ چیزوں کو نظر انداز کردو، جن معاملات میں بہتری لا سکتے ہو کوشش کرو۔

شعیب ملک کا کہنا ہے کہ39 سال کی عمر میں بھی میچیورٹی نہیں آئی تو کب آئے گی، اگر آپ کا وقت ایک ایسے شخص کے ساتھ گزرے جودرست رہنمائی کر سکے تو اس سے مدد ملتی ہے، آپ کو صرف اپنے پیشے میں ہی نہیں شخصیت میں بھی نکھار لانا چاہیے، لائف اسٹائل دیکھنا چاہیے، خود کو وقت دیتے ہوئے اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ میں رات سونے سے پہلے 15 منٹ یہ سوچتا ہوں کہ زندگی کو مزید بہتر کیسے بنایا جائے۔

آل راؤنڈر نے کہا کہ 2010 میں ثانیہ سے شادی کے بعد سے ہی فیملی دبئی میں ہی رہتی ہے، والدہ سیالکوٹ میں رہائش پذیر ہیں، پاکستان میں دیگر مصروفیات کی وجہ سے بھی آنا جانا رہتا ہے، کورونا کی وجہ سے ثانیہ کے ٹینس ٹورنامنٹ اور ہماری مصروفیات میں مجموعی طور پر بھی کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے فیملی کو ساتھ وقت گزارنے کا زیادہ موقع ملا ہے، بیٹے کو اس عمر میں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے، اس لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ جتنا ممکن ہو سکے وقت گزاریں۔

شعیب ملک اداکاری کا کورس کرنے کے خواہاں ہیں، انھوں نے کہا کہ میں ہمیشہ مختلف مواقع اور امکانات کے لیے اپنی سوچ میں لچک رکھتا ہوں، زندگی کسی طرف بھی لے جا سکتی ہے،بطور اداکار ابھی 1،2 مختصر کردار کیے ہیں، فی الحال پوری توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے، اگر اداکاری کی جانب آیا تو پہلے کلاسز لوں گااورکورس کروں گا۔

شعیب ملک نے کہا ہے کہ بابر اعظم میرے لیے چھوٹے بھائی کی طرح ہے، وہ جب کپتان بنا تومیں خود ہی تھوڑا پیچھے ہٹ گیا تھا تاکہ ان کو خود اپنے تجربات سے سیکھنے کا موقع مل سکے، جہاں پر ٹیم کے مفاد میں کوئی مشورہ ضروری سمجھتا تو ضرور دیتا تھا، جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں بھی بیٹنگ کے مسائل دیکھے تو بابر اعظم سے بات کی تھی کہ اگر نمبر 5 پر مشکلات پیش آ رہی ہیں تو میری خدمات میسر ہیں، میری دعا ہے کہ وہ اپنے اور ٹیم کے لیے پرفارم کرتا رہے۔

طویل عرصے تک کھیلتے ہوئے پاکستان کرکٹ کو آگے لے کر جائے، میں نے کپتان سے کہا کہ کوئی سفارش نہیں چاہتا لیکن اگر مناسب ہو تو بات کر سکتے ہو، حالات کچھ بھی ہوں بابر اعظم کے ساتھ اچھا تعلق برقرار رہے گا۔

شعیب ملک نے کہا کہ قومی ٹیم میں شامل کرکٹرز سے بات ہوئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم بطور کپتان کافی بہتر ہو رہا ہے، قیادت میں پختگی وقت اور تجربے کے ساتھ آتی ہے، بہرحال بابراعظم درست سمت میں گامزن ہیں، آنے والے وقت میں بہترین کپتان ہوں گے۔

شعیب ملک نے کہا کہ بیٹے اذہان میں بڑی انرجی ہے،وہ اپنے کیریئر کا فیصلہ خود کرے گا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اذہان کو معلوم ہے کہ والدہ ٹینس اور والد کرکٹ کے کھلاڑی ہیں،ہم دونوں میاں بیوی کبھی اسے نہیں کہتے کہ یہ بننا ہے یا وہ بننا ہے، ابھی بہت چھوٹا ہے،آگے جا کر اس کو کیا کرنا ہے یہ اس کی مرضی ہے، بہرحال میں اس میں بڑی انرجی ہے اور کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں