21

شوگر مافیا کے گرد گھیرا مزید تنگ ,100 سے زائد اکاؤنٹس منجمند

ایف آئی اے نےقیمتوں میں شکوک و شبہات کے باعث ‘شوگر مافیا’ کی 40 اہم شخصیات کے 100 سے زائد بینک اکاؤنٹس منجمد کر دئیے۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)نے سندھ میں چینی سٹہ مافیا کیخلاف مزید کارروائیاں کرتے ہوئے مزیدچارافراد کو حراست میں لے لیا، گرفتار افراد کی تعدادسات ہو گئی ہے جبکہ لاہور میں بھی کاروائیاں زوروشور سے جاری ہیں۔ایف آئی اے کاکہناہے کہ گرفتار ملزمان شوگر بروکرز ہیں ،ملزمان ملز مالکان کیساتھ ملکر چینی کے منصوعی بحران میں ملوث ہیں۔ ملزمان کے بینک اکاﺅنٹس منجمد ودیگردستاویزات ضبط کرلی ،ملزمان کیخلاف منی لانڈرنگ، اکاﺅنٹس چھپانے اوربے نامی اکاﺅنٹس کی تحقیقات جاری ہیے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملک بھر میں شوگر مافیا کے 10 بڑے گروہوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے جنہوں نے ملز مالکان کی ملی بھگت کے ساتھ قیمتوں میں شکوک و شبہات اور سٹہ بازی کے ذریعے ایک سال میں 110 ارب روپے کے قریب کمائے تھے۔

ایف آئی اے نے ملک آباد سٹہ گروپ، ملتان سٹہ گروپ، مولوی ظہیر سٹہ گروپ، ملک ماجد سٹہ گروپ، خرم دوائی سٹہ گروپ، مرزا شوگر سٹہ گروپ، طفیل گوگا سٹہ گروپ، بھلی سٹہ گروپ، پراچہ سٹہ گروپ اور بٹ شوگر سٹہ گروپ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہیں۔

ملزمان کچھ ‘ممتاز شوگر پلئیرز’ کے لیے جوا کھیلتے تھے جبکہ سٹے میں بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ بھی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں