114

شیخ رشید نے ملک میں مظاہروں کے بعد مذاکرات اور معاہدے کی تفصیل جاری کر دی

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاہے کہ اپریل کو 7 گھنٹے مذاکرات کے بعدمعاملات طے پاگئے،تاریخ میں پہلا احتجاج ہواہے جس میں 700 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں ، اپریل کو 7 گھنٹے مذاکرات کے بعدٹی ایل پی سے معاملات طے پاگئے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ شید نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ یرغمال 12 لوگ 19 اپریل کی رات کوہی واپس کردیئے تھے،ریاست اپنی آب وتاب کے ساتھ قائم ہے اور کسی کے دباو¿میں نہیں ہے،اتوارتک ہم بہترپوزیشن میں تھے،ناموس رسالتﷺکی خاطرہم دوبارہ بیٹھے،20 اپریل کو 7 گھنٹے مذاکرات کے بعدٹی ایل پی سے معاملات طے پاگئے ۔

شیخ رشید کا کہناتھا کہ 19 اپریل کی رات کوطے پایامسودہ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے،قراردادمیں فرانس کے سفیرکوملک سے نکالنے پربحث شامل تھی،ناموس رسالتﷺ کیلئے عمران خان نے اقوام متحدہ اوراوآئی سی میں بات کی،ناموس رسالتﷺ پرعمران خان نے مسلم ممالک کے سربراہان کوخط لکھے،معاہدے میں طے پایاایم پی او کے تحت گرفتارافرادکورہاکریں گے،733 میں سے 669 لوگوں کورہاکردیاگیا ،رہائی پانے والوں میں زیادہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 210 ایف آئی آرزعدالتی عمل سے گزریں گی اور سعدرضوی کاکیس بھی عدالتی پراسیس سے گزرے گا،جوبھی قانون ہاتھ میں لے گاقانون اس کیخلاف حرکت میں آئےگا،سوشل میڈیاپرایسے لوگوں کومردہ دکھایاگیاجنہوں نے خودآکرکہاوہ زندہ ہیں،خوشگوارماحول میں معاملہ پایہ تکمیل تک پہنچا۔

شیخ رشید کا کہناتھا کہ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا گیا ہے وہ تیس روز میں اپیل کر سکتے ہیں ، کالعدم تنظیم تیس روز میں اپیل کرے گی پھر اپیل پر کمیٹی بنے گی جو اس کا فیصلہ کر ے گی ۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران بیس گاڑیاں جلائی گئیں ، پانچ واپس کر دی گئیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں