80

صوبہ پنجاب میں پرانے بلدیاتی اداروں کی بحالی پیچیدہ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کر دیا جس کے بعد صوبہ بھر کے ضلع کونسلرز اور یونین کونسلرز بحال ہوگئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد صوبے میں رائج بلدیاتی نظام کو بدلنے کا اعلان کیا تھا اور 2019 میں اسمبلی کے ذریعے ایک قانون پاس کیا جس سے نا صرف 2013 میں ن لیگ کی حکومت کا پرانا بلدیاتی قانون ختم کر دیا گیا بلکہ تمام بلدیاتی ادارے بھی تحلیل کر دیے گئے۔ 
ان حکومتی اقدامات کے خلاف اس وقت کے ختم ہونے والے بلدیاتی نمائندوں نے عدالت سے رجوع کر لیا۔ سپریم کورٹ نے ان کی درخواست جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے نئے بلدیاتی ایکٹ کی شق تین کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قراردے دیا۔ شق تین بنیادی طور پر منتخب نمائندوں کو ختم اور پرانے اداروں کو تحلیل کرنے سے متعلق ہے۔ اس حکم کے بعد پورے صوبے میں اٹھاون ہزار سے زائد بلدیاتی نمائندے دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بلدیاتی نمائندے اکثریتی طورپرمسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ن لیگ کے قائد نواز شریف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس عدالتی فیصلے کو سراہا بھی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ کے دور کے بلدیاتی نمائندے جن کو ختم کر دیا گیا تھا اب وہ دوبارہ کل سے اپنا کام شروع کردیں گے؟ اس کا جواب زاہد اسلم جو کہ لوکل گورنمنٹ ریسورس سنٹر نامی ایک ادارہ چلا رہے وہ کچھ اس طرح دیتے ہیں ’سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صرف ایک لحاظ سے بہتر ہے کہ جو بھی بلدیاتی نمائندے منتخب ہو کر آئیں ان کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔ اور ان کو کوئی بھی قبل از وقت برخواست نہ کرے۔ لیکن اس فیصلے میں تکنیکی طور پر ایسی کئی چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا جنہوں نے خود اس فیصلے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔‘ 
زاہد اسلم جو کی تھینک ٹینک چلانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو مختلف ادوار میں بلدیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز بھی دیتے رہے ہیں انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا ’سپریم کورٹ نے دوہزار انیس کا موجودہ حکومت کا قانون بالکل ختم نہیں کیا بلکہ صرف ایک شق ختم کی ہے اس وقت نافذالعمل قانون دوہزار انیس کا ہی ہے۔ لیکن بحال ہونے والے ادارے اور منتخب نمائندے دوہزار تیرہ کے قانون کے تحت الیکٹ ہوکر آئے۔ جبکہ دوہزار انیس کے قانون میں توضلع کونسلز یا یونین کونسلز ہیں ہی نہیں۔ اب جیسے لاہور کی ضلع کونسل کی بجائے میٹروپولیٹین کونسل ہے جس کا میئر بحال ہوا ہے لیکن اس میئر کی ضلع کونسل بحال نہیں ہوئی۔ یا تو دوہزار تیرہ کا پورا قانون بحال کیا جائے جس کے تحت وہ منتخب ہو کر آئے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کسی اسمبلی کا بنایا ہوا پورے کا پورا قانون ختم یا بحال نہیں کر سکتی۔‘ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں