76

غصہ قابو میں رکھنے کے لیے چھ آسان طریقے

 ہم سب کو معلوم ہے کہ غصہ ایک انسانی عمل ہے جو ہم سب کو آتا ہے لیکن جب یہ بڑھتا ہے یا اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے تو اس سے پریشانی ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق چاہے کام کرنے میں پریشانی ہو یا دوسروں کے ساتھ ذاتی تعلقات میں غصہ کرنے کے بالآخر نقصانات ہوتے ہیں۔
  غصے کی وجوہات اور اس کے اسباب کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق غصہ پر قابو پانے کے مناسب طریقوں کے بارے میں سوچنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں۔ 
لہٰذا بہتر اور مناسب طریقہ یہی ہے کہ اس پر قابو پانے کے طریقوں کے جاننے سے قبل اس کے اسباب کو جانیں تاکہ مسئلے کو جڑ سے ختم کر سکیں۔ غصے کی وجوہات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
1- بیرونی اسباب: عموماً غصہ بیرونی اسباب کے نتیجے میں ہوتا ہے جیسے کام کی جگہ آفس وغیرہ میں کوئی مسئلہ ہوجائے یا کسی بندے سے اختلاف رائے ہونے کے نتیجے میں آتا ہے۔
 2- داخلی اسباب: غصہ  کے دیگر اندرونی احساسات جیسے بے چینی، آس، یا طویل انتظار کے نتیجے میں بھی پیدا ہوسکتا ہے، کیونکہ اس قسم کے احساسات غصے کا سبب بنتے ہیں۔
 بہر حال غصہ کی جو بھی وجوہات ہوں اس ماحول کے مطابق وہ شخص اپنے غصے کے اظہار کے لیے مناسب طریقہ کا انتخاب کرتا ہے۔  ہر شخص کا ماحول کی نوعیت کے مطابق غصے کے اظہار کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔
غصہ کے وقت لوگ ان تین حالتوں کا سامنا کرتے ہیں: یا تو اظہار کریں گے، یا اسے دباتے ہیں اور یا پھر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
غصے کے جذبات کا اظہار صاف انداز میں کیا جائے، نہ کہ جارحانہ انداز اپنایا جائے، غصہ کو دبایا جاسکتا ہے یعنی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے البتہ اس میں خطرہ یہ ہے کہ یہ اندرونی پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے جیسے ہائی بلڈ پریشر یا کوئی بیماری ہوسکتی ہے۔
 غصہ کو ٹھنڈا کرنا غصے پر قابو کا حتمی طریقہ یہ ہے کہ دونوں اسباب یعنی اندرونی اور بیرونی وجوہات واسباب پر قابو پایا جائے۔
ماہرین کے مطابق جب بھی غصہ آئے تو گہری سانس لیں، آرام کریں، اور اچھے الفاظ کا استعمال  کریں۔
  پہلا طریقہ گہری سانسیں: گہری سانس لینے کی کوشش کرتے وقت آہستہ آہستہ آرام دہ الفاظ کو دہرانے کی کوشش کریں، جیسے  پرسکون ہوجاؤ، آرام کرو۔
  دوسرا طریقہ آسان ورزشیں: آسان ورزشیں کرنے کی کوشش کریں جیسے یوگا اور اس قسم کی، تاکہ آپ کے مسلز کو آرام ملے۔
 اس تکنیک میں آپ کو زیادہ وقت اور محنت درکار نہیں ہوگی  کیونکہ بہت آسان ہیں، لہذا روزانہ ان پر عمل کرنے کو  یقینی بنائیں تاکہ آپ انھیں ہر وقت غصے کی حالت میں اسے بجا لا سکیں ۔
مثال کے طور پر آپ یہ سوچیں کہ میرا غصہ کرنے سے کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ “تیسرا طریقہ:  مسئلہ حل کرنا: 
بعض اوقات غصے کی وجہ بالکل درست ہوتی کیونکہ ہماری زندگی میں اصل مسائل موجود ہیں جن سے بچا نہیں جا سکتا۔  لہذا ان مشکلات کا رد عمل قابل فہم ہے، اور اسی طرح  مسئلے کے حل کی طرف توجہ بھی دی جائے۔  لیکن اپنے آپ پر یہ بوجھ مت ڈالیں کہ ہمیشہ تمام مسائل کا حل ہوتا ہے۔
 چوتھا طریقہ:   دوسروں کے ساتھ گفتگو کو بہتر کیا جائے
دوسروں پر غصہ کیوں آتا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر ان کے ساتھ اسے شیر کریں۔ 
 پانچویں طریقہ: اپنے آس پاس کے ماحول کو تبدیل کریں
 دن کے وقت کچھ وقت اپنے لئے خصوصی طور پر نکالیں یہ بھی ضروری ہے ، خاص طور پر ایسے لمحات جو آپ کولگیں کہ آپ کے لئے ٹینشن کا سبب ہے
 چھٹا طریقہ:  مختلف اور نت نئے طریقوں سے معاملات کو سلجھانا
ماہرین کے مطابق 3 طریقے ہیں جو کسی صورتحال پر آپ کے ردعمل کو تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
 اجتناب:
 ماہرین کے مطابق غصہ قابو کرنے میں بہت زیادہ مشقت کی ضرورت ہوتی ہے، اور آپ کو اس کے دوران ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ واقعتا ضروری ہے۔  اس سے آپ کو دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور اس سے آپ اپنی صحت کو برقرار رکھنے اور حالات کو مناسب طریقے سے ہینڈل کرنے کے قابل بنیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں