111

فیشن ماڈلز نے مسجد چھوڑی نہ گردوارے، کرتار پور میں بھی پہنچ گئے، تصاویر وائرل

 سوشل میڈیا پر کرتارپور میں گردوارہ سری دربار صاحب کے احاطے میں ایک فیشن برانڈ کے لیے خاتون ماڈل کی فوٹو شوٹ کی تصاویر سامنے آئی ہیں، جس پر سکھ برادری کی جانب سے ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے.

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے جس میں خاتون ماڈل کو گردوارہ کرتارپور صاحب کے احاطے میں فوٹوشوٹ کرواتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت پاکستانی صارفین کی جانب سے بھی ان تصاویر پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کوئی بھی مذہب ایسے کاموں کی اجازت نہیں دیتا، ہمیں کسی کے بھی مذہبی جزبات کو مجروح نہیں کرنا چاہئے۔اعلیٰ حکام کو ایسے واقعات کی روک تھام کرنی چایئے تاکہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔

 یاد رہے سکھوں کے مذہبی مقام کرتارپور صاحب کے احاطے میں ماڈلنگ پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے  بھی تنقید کی تھی، انہوں نے ڈیزائنر اور ماڈل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سکھ برادری سے معافی مانگیں۔ 

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گورو دوارہ کرتارپور کے احاطے میں ماڈلنگ کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے  انکوائری کا حکم دے دیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے چیف سیکرٹری سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی جبکہ ماڈلنگ کی اجازت دینے والے عملے کے خلاف کارروائی کا حکم صادر کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں