11

قندوز میں شیعہ برادری کی مسجد پر خودکش حملہ، 50 افراد ہلاک

افغانستان کے شہر قندوز میں مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نماز کے دوران ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں مسجد میں لاشیں اور ملبہ نظر آ رہا ہے۔ یہ مسجد مقامی شیعہ برادری کی ہے۔

ابھی تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شدت پسند گروہ جن میں مقامی دولتِ اسلامیہ کا گروپ بھی شامل ہے شیعہ برادری کو پہلے بھی نشانہ بناتے رہے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ خراسان، جو کہ دولتِ اسلامیہ کی ایک مقامی شاخ ہے، طالبان کے بہت زیادہ خلاف ہے، اور اس نے حال ہی میں کئی بم حملے کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ملک کے مشرقی حصے میں کیے گئے ہیں۔
مقامی تاجر زلمئی الوکزئی جو دھماکے کے فوراً بعد ہسپتال پہنچے تھے تاکہ یہ پتہ کر سکیں کہ زخمیوں کو خون کے عطیات تو نہیں چاہییں، بتاتے ہیں کہ وہاں صورتِ حال بہت ابتر تھی۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایمبولینسیں جائے وقوع کی طرف جا رہی تھیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو لایا جا سکے۔

طالبان کے لیے ایک بڑا خطرہ

سکندر کرمانی، پاکستان میں نامہ نگار

اگرچہ ابھی تک کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن یہ حملہ دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے حملوں کی طرح کا ہی ایک حملہ ہے۔ اسی گروہ نے اگست میں کابل ایئرپورٹ پر تباہ کن بم دھماکے کیے تھے۔

ماضی میں بھی یہ گروہ متعدد مرتبہ افغانستان کی شیعہ اقلیت کو نشانہ بنا چکا ہے، جہاں خودکش حملہ آوروں نے مساجد، سپورٹس کلبوں اور سکولوں کو نشانہ بنایا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں آئی ایس نے طالبان کے خلاف حملوں کو بھی تیز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

نام نہاد دولت اسلامیہ کے افغانستان میں بڑھتے حملوں میں طالبان کے لیے کیا پیغام ہے؟

دولتِ اسلامیہ خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی

افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ‘سلطنتوں کا قبرستان’ بناتا ہے

آئی ایس نے اتوار کو کابل میں ایک نماز جنازہ کو نشانہ بنایا تھا جس میں کئی سینئر طالبان رہنما شرکت کر رہے تھے، اور مشرقی صوبوں ننگرہار اور کنڑ میں بھی کئی چھوٹے حملے کیے گئے ہیں۔ یہ علاقے پہلے آئی ایس کا گڑھ ہوا کرتے تھے۔

جمعے کا حملہ، اگر یہ آئی ایس کی طرف سے کیا گیا ہے، تو یہ دولتِ اسلامیہ خراسان کی ملک کے شمال میں سرگرمیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے آئی ایس کے درجنوں ارکان کو گرفتار کیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس گروہ سے روابط کے شبہ میں کئی ایک کو ہلاک بھی کیا گیا ہے، تاہم وہ آئی ایس کے خطرے کو کھلے عام اتنی اہمیت نہیں دیتے۔

بہت سے افغان باشندوں کو یہ بھی امید تھی کہ طالبان کے آنے سے آمرانہ حکومت تو آئے گی لیکن اس کے ساتھ نسبتاً امن بھی ہو جائے گا۔ لیکن دولت اسلامیہ خراسان طالبان کے امن کے وعدے کے خلاف ایک بڑا خطرہ ہے۔

line

امریکہ اور طالبان کے درمیان غیر ملکی افواج کے انخلا کے ایک معاہدے کے بعد طالبان نے 15 اگست کو ملک کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔ اس سے بیس سال قبل سنہ 2001 میں امریکی افواج نے طالبان سے اقتدار چھینا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں