85

قومیں فکر، سوچ ، ذہانت اور علم کی بنیاد پر بنتی ہیں، صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قومیں فکر، سوچ ، ذہانت اور علم کی بنیاد پر بنتی ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے ایوانِ صدر میں صدارتی اقبال ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال نے مسلم امہ کو اتفاق و اتحاد کا درس دیا۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقبال کے فلسفے اور فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال دو قومی نظریے اور مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کے حامی تھے، اقبال کی شاعری اس دور کے مسلمانوں کی فکر کی عکاس ہے۔

 ڈاکٹر عارف علوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے امت مسلمہ اور مسلمان قیادت کو ایک نیا وژن دیا ، اقبال کے ویژن کو عام افراد اور قیادت تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اقبال شاعر، مفکر، فلسفی ہونے کے ساتھ سائنس کو بھی سمجھتے تھے، اقبال نے “اسلام میں مذہبی فکر کی احیائے نو” میں فلسفہ، فکر اور اسلام کی نشاۃ  ثانیہ کا ذکر کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقبال کی سوچ موجودہ دور میں بھی اثر رکھتی ہے، جدید دور میں ترقی جدید افکار اور نئی سوچ اپنانے سے ہی ممکن ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ قومیں فکر، سوچ، ذہانت اور علم کی بنیاد پر بنتی ہیں، امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقبال کی فکر اور سوچ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

تقریب میں وفاقی وزیر قومی تاریخ اور ادبی ورثہ، شفقت محمود، اور سینیٹر ولید اقبال نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ شاعر مشرق اور حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 144 واں یوم پیدائش آج ملی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔

مسلمانوں کے لیے آزاد ملک کا خواب دیکھنے والے اور انسانی روح بیدار کرنے والے شاعر مشرق ڈاکٹرعلامہ اقبال 9 نومبر1877 کوسیالکوٹ میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا، آپ نے قانون اور فلسفے ميں ڈگرياں لیں لیکن جذبات کے اظہار شاعری سے کیا۔

شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے معروف مفکر، شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

ملت اسلامیہ کو ” لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری “ جیسی آفاقی فکر دینے والے علامہ اقبال نے قانون اورفلسفے میں ڈگریاں لیں لیکن انہوں نے جذبات کے اظہار کیلئے شاعری کا سہارا لیا۔

علامہ اقبال نے اپنے خیالات اشعار کی لڑی میں ایسے پروئے کہ وہ قوم کی آواز بن گئے۔

شاعرمشرق نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ اور انگلستان میں گزارا لیکن انہوں نے انگریزوں کا طرز رہن سہن کبھی نہیں اپنایا، اپنی شاعری میں علامہ اقبال نے زیادہ تر نوجوانوں کو مخاطب کیا، علامہ اقبالؒ کو دورِ جدید کا صوفی بھی سمجھا جاتا ہے۔

علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کے لیے جداگانہ قومیت کا احساس اُجاگر کیا اور اپنی شاعری سے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ اُن کے افکار اور سوچ نے اُمید کا وہ چراغ روشن کیا جس نے نا صرف منزل بلکہ راستے کی بھی نشاندہی کی۔

علامہ اقبال کا شہرہ آفاق کلام دُنیا کے ہر حصے میں پڑھا اور سمجھا جاتا ہے، انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو آپس میں اتحاد اور اتفاق کی تلقین کی اور دعوت عمل دی۔آپ 21 اپریل 1938 کو 60 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال فرما گئے آپ کا مزار بادشاہی مسجد کے سائے میں مرجع خلائق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں