51

لاہور: انارکلی بازار میں دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، 28 زخمی

لاہور:  لوہاری گیٹ کے قریب  انار کلی بازار میں ہونے والے دھماکے میں بچے سمیت  2 افراد جاں بحق اور  28 زخمی ہوگئے۔

جیو نیوز کے مطابق انارکلی بازار کی دکانوں کے قریب دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ دھماکے سے متعدد عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریب کھڑی موٹرسائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لےکر امدادی کارروائیاں شروع کردیں، دھماکے کی جگہ کو شامیانے لگا کر سیل کردیا گیا ۔

وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین کے مطابق دھماکے میں ایک جاں بحق شخص کی لاش اسپتال لائی گئی جب کہ ایک زخمی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

ڈاکٹر یاسمین کے مطابق دھماکےکے  زخمیوں میں 3 خواتین بھی شامل ہیں جن کی حالت بہتر ہے جب کہ دھماکے میں زخمی چار افراد کی حالت تشویشناک ہے  ان افراد کی  ہڈیاں ٹوٹی ہیں۔

ڈی سی لاہور کے مطابق مرنے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کی عمر 9 سال ہے اور اس کی شناخت ابصار کے نام سے ہوئی ہے جو کہ کراچی کا رہائشی بتایا جاتا ہے، دھماکے میں ابصار کے والدین بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہےکہ دھماکا ایک بج کر 45 منٹ پر ہوا جس کے تعین کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کام کررہا ہے۔

پولیس نے علاقے میں دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ دکانوں کے پاس پلانٹڈ بم نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے زور دار دھماکا ہوا ہے اورتقریباً ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا پڑا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ دھماکا انارکلی بازار کے داخلی راستے پر ہوا ہے اور بم نجی بینک کے قریب موجود دکانوں کے پاس نصب تھا۔

ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد نےکہا ہےکہ واقعے کی ابتدائی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بینک کے باہر پارکنگ میں زوردار دھماکا ہوا جس کے بعد موٹرسائیکل اور ریڑھیوں میں آگ لگ گئی۔ 

دھماکےکامقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں ایس ایچ اوسی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

مقدمےمیں دہشت گردی، ایکسپلوزوایکٹ سمیت  302 اور  324 کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق ایف آئی آرمیں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکرکیا گیاہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے لاہور دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے اور زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں کہ لاہور دھماکے میں کون ملوث ہے،کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے سیزفائر ختم ہوچکا ہے، پانچ شہروں سے متعلق ریڈ الرٹ جاری کیا ہواہے۔ 

آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب  عثمان بزدار کو دھماکے سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی ہے۔

 ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا پلانٹڈ ڈیوائس سے کیا گیا،دھماکے میں ڈیڑھ کلو باروودی مواد استعمال کیا گیا تھا، دھماکے میں ایک عمارت اور 8 موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا۔

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  دھماکے میں 28 افراد زخمی اور 2 جاں بحق ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں