145

ماہ صیام کا آغاز اور سحری کا اہتمام ، روزوں کا اصل مقصد کیا ہے ؟ جانئے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان پہلا روزہ رکھ چکے ہیں جبکہ پاکستان میں ماہ صیام کی پہلی سحری کا آغاز ہو چکا ہے ،کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں ریسٹورنٹ بند ہیں تاہم “ٹیک اوے “اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت موجود ہے، مسلمان پہلے روزے سے ہی خصوصی انفرادی عبادات کا اہتمام کر چکے ہیں جبکہ مساجد میں حکومتی ایس او پیز کی پابندی کرتے ہوئے نماز تراویح کا اہتمام کیا گیا ،پہلے روزے کی تراویح کے موقع پر مساجد میں نمازیوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا،روزے کا اصل مقصد کیا ہے ،اللہ نے روزے کی فرضیت کا حکم کیوں دیا اور نبی رحمت ﷺ اس ماہ مقدس کو کیسے گذارتے تھے ؟اس بارے میں مختصر رپورٹ میں جانئے ۔

روزے کااصل مقصد یہ ہےکہ لوگ اللہ تعالی سےڈرنےوالےبن جائیں،قرآن کریم میں روزے کی فرضیت بارے حکم دیا اور ساتھ ہی مقصد بتا دیا گیا کہ روزے اس لئے فرض کئے گئے ہیں تاکہ تمہارے اندر “تقوی” پیدا ہوجائے،قرآن کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے شب وروزکو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات سے ڈرتا رہے کہ اس نے اگر کبھی ان حدود کو توڑا تو اس کی پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔

“رمضان” عربی زبان کالفظ ہے، جس کے معنی ہیں “جھُلسادینے والا” اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آیا تو سخت اور جھلسادینے والی گرمی میں آیا تھا لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی خاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گناہوں کو جھلسادیتے ہیں اورمعاف فرمادیتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو “رمضان” کہتے ہیں۔ 

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہیں۔

رمضان المبارک کے ماہِ سعید میں حضور نبی کریم ﷺ کے معمولاتِ عبادت و ریاضت میں عام دنوں کی نسبت کافی اضافہ ہو جاتا۔ اس مہینے میں اللہ تعالی کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی۔ اسی شوق اور محبت میں آپ ﷺراتوں کے قیام کو بھی بڑھا دیتے۔ماہ صیام میں کثرت کے ساتھ  حضور نبی کریم ﷺ کے انہیں معمولات کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ ہم بھی حضور نبیﷺکے اسوہ حسنہ پر عمل کر کے اس مہینے کی برکتوں اور سعادتوں کو لوٹ سکیں۔

حضورنبی کریم ﷺ رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کےپانےکی دعااکثر کیا کرتےاور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نےفرمایا جب رجب المرجب کا مہینہ شروع ہوتا تو حضورﷺیہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔

 ماہ صیام کا اصل مقصد غفلت کے پردوں کو دل سے دور اور اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کرنا ہے، گذشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ ہوئے ان کو معاف کراکر آئندہ گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے استحضار اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ گناہ نہ کرنے کا داعیہ اور جذبہ دل میں پیدا کیا جائے،اسی کو “تقویٰ” کہا جاتا ہے۔

اس طرح رمضان المبارک کی صحیح روح اوراس کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر ہم فائدہ نہیں اٹھاپائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں