90

متعدد چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد

حالیہ دنوں چند مغربی ممالک نے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے متعدد چینی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔چین نے  ایسے بیانیے کو جھوٹ اور بد نیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور جوابی اقدامات اپناتے ہوئے متعلقہ ممالک کے اہلکاروں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔چین کا موقف ہے کہ ایسے عناصر نے جھوٹی معلومات کی تشہیر سے چین کی خود مختاری اور بنیادی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے اور یکطرفہ اقدامات اپناتے ہوئے چین پر بلا جواز پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔حقائق کے تناظر میں مغربی ممالک کے ایسے رویےغیر متوقع نہیں ہیں اور ماضی میں بھی متعدد ممالک کو مغرب کی جانب سے ایسی یکطرفہ پابندیوں کا سامنا رہا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ چین نے مضبوط موقف اپناتے ہوئے جوابی پابندیاں عائد کی ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جائز اور معقول قدم اٹھایا ہے۔ چین نے ایک ترقی پزیر ملک کی حیثیت سے مغرب کے ایسے متکبر  اورمتعصب ممالک کو  واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں جھوٹ کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ترک کرنی چاہیے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور بنیادی مفادات کا احترام لازم ہے۔

مغرب کے چین مخالف رویے کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ایک طویل عرصے سے مغربی ممالک کے سیاستدان اور میڈیا ادارے چین کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں اورسنکیانگ کے حوالے سے جعلی اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر  چینی عہدہ داروں پر پابندیاں عائد  کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔سچائی تو یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں متعدد ممالک کےصحافیوں ، سفارت کاروں ، دانشوروں ، سیاست دانوں ، قانون دانوں ، مسلم ممالک کے مذہبی اسکالرز ، سرکاری اور غیر سرکاری عہدیداروں ، طلباء اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سنکیانگ کے دورے کیے ہیں اور انہوں نے سنکیانگ میں ترقی و خوشحالی اور استحکام کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ سنکیانگ کے مختلف نسلی گروہوں کے باشندے امن ، سلامتی ، ترقی اور خوشحالی سے بھرپور لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔سنکیانگ میں اقتصادی سماجی ترقی سے انسانی حقوق کا جامع تحفظ کیا گیا ہے تاہم چند مغربی ممالک سنکیانگ کی ترقی پر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور محض جھوٹی رپورٹس کی بنیاد پر چین کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔یہاں تک کہ انہوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر چینی سرکاری دستاویزات اور اعداد و شمار کو مسخ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں