33

مسلم لیگ (ن) کی پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف مسلم لیگ (ن)کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اصل اسٹیک ہولڈرزنے آرڈیننس چیلنج کیا ہوا ہے، کیس پرحتمی دلائل ہورہے ہیں، عدالت یقین دلاتی ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی درخواست نہیں سنی جائےگی، درخواست گزار مسلم لیگ ن پارلیمنٹ میں موجود ہے، اصل اسٹیک ہولڈرز نے پہلے ہی پیکا کو چیلنج کررکھا ہے، جن کے پاس کوئی متبادل فورم بھی نہیں ۔

مسلم لیگ (ن)کے وکیل نے کہا کہ ہم بھی عدالت کی معاونت کرناچاہتے ہیں،جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جتنی بھی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہ چکی ہیں وہ یہی کرتی ہیں کہ آرڈیننس لے آئیں۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی جماعتوں کا احترام ہے، وہ عدالت آنے کے بجائے پارلیمنٹ کو مضبوط کریں،سیاسی جماعت کا عدالت آنا پارلیمنٹ کی بے توقیری ہے، آپ پارلیمنٹ کو پاورفل بنائیں، غیر ضروری درخواستیں عدالتوں میں نہ لائیں، اٹارنی جنرل کو اس معاملے پر سن چکے ہیں اور دوبارہ بھی سنیں گے۔

مسلم لیگ (ن)کے وکیل نے کہا کہ ہم بھی عدالت کی معاونت کرناچاہتے ہیں،جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جتنی بھی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہ چکی ہیں وہ یہی کرتی ہیں کہ آرڈیننس لے آئیں۔

مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے بتایا کہ آرڈیننس کو ہاؤس کے سامنے پیش کرنے کیلئے120دن کا وقت ہوتا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کا بہت بڑا اختیار ہوتا ہے، وہ آئین میں بھی ترمیم کرسکتے ہیں، آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملے پر کسی سیاسی جماعت کی درخواست کو انٹرٹین نہیں کریں گے،سیاسی جماعت کے پاس مجلس شوری کا فورم موجود ہے وہاں جا کراپنا کردارادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں