10

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے نرخ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد مجموعی طور پر ملا جلا رجحان رہا

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے نرخ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد مجموعی طور پر ملا جلا رجحان رہا نیویارک کاٹن کے نرخ میں غیرمعمولی اتار چڑھا دیکھا گیا نیویارک کاٹن کے نرخ میں پورے ہفتہ کے دوران فی پانڈ 5 تا 6 امریکن سینٹ کے زیر اثر مقامی کاٹن کے نرخ میں بھی فی من 500 تا 600 روپے کے ہجکولے آتے رہی جس کے زیر اثر مقامی کاٹن کانرخ بھی متاثر ہوتا رہا نئے ہفتے کے آغاز سے ہی نیویارک کاٹن کے وعدے کے نرخ میں تیزی کا عنصر پایا گیا منگل کے روز نیویارک کاٹن کے وعدے کانرخ ایک ڈالر 14 امریکن سینٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جس کے زیر اثر مقامی کاٹن کانرخ بھی بڑھتا رہا آعلی کوالٹی کی روئی کانرخ فی من 15000 روپے اور بلوچی کاٹن کا نرخ فی من 15500 روپے۔

پاکستان کی روئی تاریخ کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا انچے داموں پر ٹیکسٹائل ملز نے دلچسپی نہیں دکھائی جبکہ ایک بین الاقوامی کموڈیٹی کی فرم زبردست خریداری کرتی رہی کاٹن کانرخ کاٹن یارن کی Parity سے اونچے ہو جانے کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز محتاط ہو گئی گو کہ کاروباری حجم بھی تسلی بخش رہا جمعرات کے روز نیویارک کاٹن کا نرخ دوبارہ مستحکم ہونے کی وجہ سے کاروبار اونچے داموں پر ہونے لگا بعدازاں دوپہر کے بعد نیویارک کاٹن کے نرخ میں نرمی آنے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں روئی کے نرخ میں گراوٹ ہونا شروع ہونے لگی شام تک اعلی کوالٹی کے نرخ میں فی من 400 تا 500 روپے کی کمی واقع ہونا شروع ہوگئی دوسری جانب USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں کمی واقع ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی کا عنصر نمایاں ہونے لگا۔صوبہ سندھ میں روئی کا نرخ اتار چڑھا کے بعد کوالٹی کے حساب سے فی من 12000 تا 15000 روپے پھٹی کانرخ فی 40 کلو 4800 تا 6200 روپے بنولہ کا نرخ فی من 1500 تا 1800 روپے صوبہ پنجاب میں روئی کا نرخ فی من 14000 تا 15000 روپے پھٹی کا نرخ فی 40 کلو 5500 تا 6400 روپے بنولہ کا نرخ فی من 1600 تا 1900 روپے اور صوبہ بلوچستان میں روئی کا نرخ فی من 13800 تا 14200 روپے پھٹی کا نرخ فی 40 کلو 5800 تا 7200 روپے جبکہ بنولہ کانرخ فی من 1600 تا 2000 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 500 روپے کا نمایاں اضافہ کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 14600 روپے کے نرخ پر بند کیا۔کاٹن کراپ اسسمینٹ کمیٹی کا دوسرا اجلاس 7 اکتوبر کے روز منعقد ہوا جس میں کپاس کا نظرثانی شدہ اولین تخمینہ 84.4 ملین گانٹھوں سے تقریبا 9 لاکھ گانٹھوں کا اضافہ کرکے 9.374 ملین گانٹھوں کا لگایا صوبہ پنجاب میں 5.44 ملین گانٹھیں صوبہ سندھ میں 3.50 ملین گانٹھیں صوبہ بلوچستان میں 0.43 گانٹھیں خیبر پختون خواہ میں 0.004 گانٹھیں کل 9.374 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہونے کی توقع ہے گو کہ کپاس کی پیداوار بڑھنے کی وجہ مثبت موسمی حالات اور کپاس کے بھا میں اضافہ اور روئی کی مداخلتی قیمت اور کسانوں کی بہتر انتظامات شامل ہیں۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھا میں اتار چڑھا کے بعد مجموعی طورپر تیزی کا عنصر رہا ایک بار بھا فی پانڈ 115.92 امریکن سینٹ کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا تھا بعد ازاں کم ہو کر 110 امریکن سینٹ ہوگیا تھا نیویارک کاٹن کا بھا اس سے قبل 12-2011 کی کاٹن سیزن میں چین کی جانب سے روئی کی زبردست خریداری کی وجہ سے 2.25 امریکن ڈالر کی شاید نیویارک کاٹن کی تاریخ میں ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھو گیا تھا اس 11 سالوں کے بعد نرخ ایک امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔جمعرات کے روز USDA کی ہفتہ وار برآمد میں گزشتہ ہفتے کے نسبت 57 فیصد کمی واقع ہوئی اس بار بھی چین 1 لاکھ 74 ہزار گانٹھیں درآمد کر کے سرفہرست رہا۔ گو کہ چین میں تہوار کی وجہ سے یکم اکتوبر سے 7 اکتوبر تک طویل تعطیلات تھی ہو سکتا ہے کہ آئندہ ہفتے کی برآمدی رپورٹ میں چین کی خریداری کم ہونے کے سبب مزید کم ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ نیویارک کاٹن مارکیٹ میں غیر معمولی اضافے کے زیر اثر دنیا کے پاس پیدا کرنے والے تمام ممالک میں روئی کے بھا میں تیزی کا عنصر غالب رہا۔چین، بھارت، وسطی ایشیا کی ریاستیں، افریقہ، ارجنٹینا، برازیل وغیرہ میں تیزی دیکھی گئی۔بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کی وجوہات میں بھارت، امریکہ، چین اور پاکستان میں کپاس کی پیداوار کم ہونا شامل ہیں۔دریں اثنا حکومت پاس کی فصل کو منافع بخش بنانے اور پاس کے کاشتکاروں کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات پوری تندہی سے کام کررہی ہے ہمارے نزدیک کسانوں کی خوشحالی اولین ترجیح ہے اور ہم سیڈ سیکٹر میں مزید بہتری لانے کیلئے کام کررہے ہیں یہ بات وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام نے سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں منعقد ہونے والے *عالمی یوم پاس* پروگرام کے شرکا سے آنلائن خطاب کرتے ہوئے کہی انکا مزید کہنا تھا کہ ہم پاس کی پیداواری لاگت کم کرنے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے ایک جامعہ منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں