72

ملازمین کی بھرتیوں کی معلومات، سپریم کورٹ کے رجسٹرار ہائی کورٹ میں

سپریم کورٹ کے عملے کی بھرتیوں سے متعلق معلومات شہری کو فراہم کرنے کے انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف رجسٹرار سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا رجسٹرار سپریم کورٹ کی درخواست ہائیکورٹ سن سکتی ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے طلب کیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ رواں سال 12 جولائی کو انفارمیشن کمیشن نے معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ’انفارمیشن کمیشن نے درخواست منظور کرتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو انفارمیشن دینے کا حکم دیا تھا۔‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ انفارمیشن کمیشن نے یہ فیصلہ کس قانون کے تحت دیا تھا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انفارمیشن کمیشن نے فیصلہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت دیا۔
’یہ سارا معاملہ فرسٹ امپریشن کا ہے، پہلے دیکھنا ہے درخواست قابل سماعت بھی ہے یا نہیں۔‘
انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا رجسٹرار سپریم کورٹ براہ راست اس ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف رٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں۔‘
انہوں نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ کہاں چیلنج کیا جا سکے گا؟
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئینی عدالت ہے یہ فیڈرل لاء کے تحت نہیں آتا۔’قانونی طور پر پاکستان انفارمیشن کمیشن سپریم کورٹ کے خلاف ایسا حکم جاری نہیں کر سکتا۔‘
انہوں نے مزید بتایا ’پاکستان انفارمیشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اپنے فیصلے ہر نظرثانی کا اختیار بھی نہیں۔‘
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے شہری کی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو معلومات فراہمی کا حکم دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں