18

ملعون سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس کار حادثے میں ہلاک

ملعون سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس جس نے 2007 میں حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرتےہوئے کارٹون بنائے تھے

اتوار کو  کار ایکسیدڈنٹ میں ہلاک ہوگیا۔ اس واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کےمطابق سویڈن پولیس نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ 75 سالہ  لارس ولکس اور دو پولیس افسران آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئے اور انکی موت ہوگئی۔یہ حادثہ چھوٹے قصبے مارکارڈ کے قریب  پیش جہاں لارس کی کار سامنےسے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی۔ پولیس کے مطابق دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور ٹرک ڈرائیور ہسپتال میں داخل ہے۔ پولیس ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا  کہ یہ کسی دوسرے سڑک حادثے کی طرح تفتیش کی جا رہی ہے۔ چونکہ دو پولیس اہلکار ملوث تھے ، اس لئےتفتیش پراسیکیوٹر کے دفتر کے ایک خصوصی حصے کو تفویض کی گئی ہے۔ایک بیان میں پولیس نے کہا کہ حادثے کی وجہ واضح نہیں ہے۔مقامی پولیس سربراہ کارینا پرسن نے کہا  ہےکہ جس شخص کی ہم حفاظت کر رہے تھے اور اس کے دو ساتھی اس ناقابل فہم اور خوفناک افسوسناک سانحہ میں مر گئے۔

واضح رہےکہ ملعون لارس ولکس پولیس کے تحفظ میں تھا، اس نےحضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے2007 کے کارٹون بنایا تھا ، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ پھیل گیا اور انہوں نے عالمی سطح پر  اس گھناؤنے فعل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کیا ۔سویڈن کے اس وقت کے وزیر اعظم فریڈرک رینفلڈ نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کئی مسلم ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہےکہ القاعدہ نے لارس ولکس کے قتل کے لئے ایک لاکھ ڈالر انعام کی پیشکش کی تھی۔2015 میں بھی ولکس کوپن ہیگن میں ایک آزاد تقریر کانفرنس میں بندوق کے حملے سے بچ گئے جس میں ایک ڈینش فلم ڈائریکٹر ہلاک ہو گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں