26

ملکہ وکٹوریہ کا فوجی کو دیا گیا چاکلیٹ کا تحفہ ایک صدی بعد مل گیا

ملکہ وکٹوریہ کا فوجی کو دیا گیا چاکلیٹ کا تحفہ ایک صدی بعد مل گیا

غیرملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کی جانب سے ایک سو اکیس سال قبل جنوبی افریقہ میں لڑنے والے فوجی کو بھیجی جانے والی چاکلیٹ مل گئی، چاکلیٹ بار اسی حالت میں موجود ہے،چاکلیٹ بوئر جنگ لڑنے والے ایک فوجی سر ہنری ایڈورڈ پاسٹن کو بھجوائی گئی جو ان کے ہیلمٹ سے ملی ہے۔

چاکلیٹ مشرقی انگلینڈ کے علاقے نورفوک میں 500 سال پرانے آکسبرگ ہال میں ان کے آبائی گھر سے برآمد کی گئی،کلچرل ہیریٹج کیوریٹر نیشل ٹرسٹ نے بتایا کہ چاکلیٹ اب بھی صحیح حالت میں موجود ہے۔

چاکلیٹ کے دھاتی ڈبے کے ساتھ ملکہ وکٹوریہ کا ہاتھ سے لکھا پیغام بھی موجود ہے، جس میں لکھا ہے کہ میں آپ کے نئے سال کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں،ڈبے پر ساؤتھ افریقہ1900 بھی لکھا گیا اور ملکہ کی تصویر بھی موجود ہے

نیشنل ٹرسٹ کے مطابق ہنری نے ہیلمٹ اور چاکلیٹ کو جنگ کی یادگار کے طور پر رکھ لیا تھا، یہ چیزیں ان کی بیٹی فرانسس گریٹ ہیڈ کے سامان سے ملی جو 2020 میں 100 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

1899 سے 1902 تک جاری رہنے والی بوئر جنگ میں برطانوی افواج نے جنوبی افریقہ کی دو آزاد ریاستوں کے خلاف جنگ لڑی تھی جن کو بوئرز چلا رہے تھے اور وہاں سے بڑی تعداد میں ہیرے اور سونا ملا تھا،ملکہ وکٹوریہ نے بارز فوجیوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے آدھا آدھا پونڈ کی ایک لاکھ چاکلیٹ کے پیکٹ بھجوائے گئے تھے۔

برطانیہ میں چاکلیٹ بنانے والی کمپنیوں میں کیڈبری، فرائی اینڈ رینٹری شامل تھیں،ملکہ وکٹوریہ نے اصرار کیا کہ فوجیوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کو یہ تحائف ان کے گھر سے بھیجے گئے اس لیے کچھ چاکلیٹس پر برینڈنگ کردی تھی اسلئے دھاتی ڈبوں کو ایسے ہی رہنے دیا تھا۔

نیشنل ٹرسٹ کے مطابق ان میں سے کچھ دھاتی ڈبے ملے تھے،یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کا اصل مالک کون تھا کیونکہ زیادہ تر فوجیوں نے یہ چاکلیٹس کھا لی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں