10

ملک میں جاری احتساب کےسرکس میں حکومت بھی شامل ہوگئی،شاہدخاقان

پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئررہنما شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں جاری احتساب

 سرکس میں حکومت بھی شامل ہوگئی ہے۔

منگل کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پیش ہوئے۔عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتےہوئے شاہدخاقان عباسی نے بتایا کہ احتساب کا سرکس جاری ہے اور اب تو حکومت بھی اس میں شامل ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ چیئرمین نیب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں لیکن کوئی مشاورت نہیں کی گئی جبکہ پورا احتساب کا عمل ایک چیئرمین کے سر پر ہے۔حکومت نے اپنی چوری بچانے کی کوشش کرنی ہےاور یہ کام اسی چیئرمین کے ذمہ ہے،لگتا ہے کہ یہ چیئرمین تاحیات رہیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے طنزیہ یہ بھی کہا کہ وقت بتائے گا کہ اس چیئرمین کے وزیر اعظم کا کیا حال ہوگا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیب کا یہ آرڈیننس صرف حکومت کی چوری بچانے کیلئے استعمال ہوگا۔ جمعے کی شام کو آرڈیننس آیا ہے، اس کو ہائیکورٹ، سپریم کورٹ، سینیٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔لیگی رہنما نے کہا کہ معیشت تباہ ہوتی جا رہی ہے، نہ حکومت کو پرواہ ہے، نہ وزیروں کو پرواہ ہے۔

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 16 اکتوبر کو پی ڈی ایم کا فیصل آباد میں جلسہ ہے اور 18 اکتوبر کو سربراہی اجلاس ہے جس میں پی ڈی ایم کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ضرور لیکن پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔بطور اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جاتی ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ سول اور عسکری تعلقات پر بحث چل رہی ہے۔اس پر انھوں نے جواب دیا کہ میں نے سنا تھا کہ وہ ایک پیج پر ہیں باقی آپ کو بہتر پتہ ہے۔

احتساب عدالت:ایل این جی ریفرنس پرٹرائل کاعمل آگےنہ بڑھ سکا

احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت کےدوران شریک ملزمان کے وکلا نے نیب ترمیمی آرڈیننس کی کاپی پیش کردی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آرڈیننس کے بعد ریفرنس بنتا ہی نہیں ہے۔ ریفرنس میں نامزد نجی شخصیات نے بھی کیس خارج کرنے کی استدعا کی۔

وکیل ملزم بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ آرڈیننس کے مطابق یہ کیس اب نیب کےدائرکار میں نہیں آتا،پرائیویٹ افراد پر نیب اور احتساب عدالت کا دائرہ اختیار ختم کردیا گیا۔

نیب کی جانب سےریفرنس ختم کرنے کی مخالفت کی گئی۔پراسیکیوٹرعثمان مرزا نے کہا کہ کابینہ کے فیصلوں کوجو نیب سے استثنیٰ دیا گیا وہ 6 اکتوبر کے بعد ہوگا۔

اس دوران شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے وکیل نے ترمیمی آرڈیننس کے تحت کوئی بھی استثنیٰ لینے سے انکار کردیا۔ وکلا صفائی نے ترمیمی آرڈیننس کے تحت کیس کا جائزہ لینے کیلئے وقت مانگ لیا جس کے بعد عدالت نے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں