51

ناظم جوکھیو قتل کیس: پی پی رکن سندھ اسمبلی نے گرفتاری دے دی

کراچی: ناظم جوکھیو قتل کیس میں لواحقین کا احتجاج رنگ لے آیا، کیس میں نامزد پی پی رکن سندھ اسمبلی جام اویس نے گرفتاری دے دی ۔

تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیر نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں پی پی رکن سندھ اسمبلی جام اویس نے گرفتاری دیدی ہے۔

جام اویس نے ملیر میمن گوٹھ پولیس اسٹیشن میں جاکر خود کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔

گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی مقتول کے لواحقین سے رابطہ کیا تھا، اس سے قبل صوبائی وزیر سعید غنی اورامتیاز شیخ نے بھی لواحقین سے ملاقات کی تھی، صوبائی وزرا کی جانب سے مقتول کے لواحقین نے یقین دہانی پر احتجاج 24گھنٹے کیلئے موخر کردیا تھا۔

نوجوان ناظم جوکھیو کے قتل کے خلاف لواحقین نے گھگھر پھاٹک کے قریب دھرنا دیا تھا، دھرنے کے باعث نیشنل ہائی وے ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔

نوجوان ناظم جوکھیو کے قتل کے خلاف لواحقین نے گھگھر پھاٹک کے قریب دھرنا دیا تھا، دھرنے کے باعث نیشنل ہائی وے ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔

اس سے قبل ناظم جوکھیو کے قتل کے واقعے میں ملوث دو افراد کو گزشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا، ایس ایس پی ملیر کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے دونوں افراد جام اویس کے گن مین ہیں، تاہم وہ مقدمے میں نامزد نہیں ہیں۔

کیس کا پس منظر

ناظم جوکھیو کے بھائی افضل نے صحافیوں کو بتایا کہ جامشورو کارو جبل کے علاقے میں غیر ملکی شہری شکار کے لیے آتے ہیں، مقتول ناظم جوکھیو نے غیر ملکی شہری کی گاڑی کو روک کر ویڈیو بنائی تھی۔جس میں وہ غیر ملکی شہریوں کو مبینہ طور پر تلور کا غیر قانونی شکار کرنے سے منع کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے بعد جام گہرام نے ان سے بات کی اور کہا کہ تمہارے بھائی کو کیا مرچ لگی ہے میں نے کہا کہ غلطی ہوگئی ہے اس نے کہا کہ اس کو میرے پاس پیش کرو۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں