79

نور مقدم قتل کیس: عدالت کا ظاہر جعفر کو اپنا رویہ ’درست‘ کرنے کی ہدایت

اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ اگر کمرہ عدالت میں قابل اعتراض رویہ اپنانے سے باز نہیں آئے توعدالت میں ان کی حاضری روک دی جائے گی۔

عدالتی مراسلے میں کہا کہ ’ظاہر ذاکر نے عدالت میں ہنگامہ برپا کیا اور عدالتی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی، انہیں اپنا رویہ درست کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے بصورت دیگر ان کی عدالت میں حاضری استثنیٰ قرار دے دی جائے گی اور جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا حصہ بنایا جائے گا‘۔

مزیدپڑھیں: نور مقدم قتل کیس: ’غلط الفاظ‘ پر جج نے ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا

مراسلے میں کہا گیا کہ انسپکٹر مصطفیٰ کیانی نے عدالت کے احاطے میں سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ ظاہر جعفر کے رویے سے متعلق رپورٹ بھی جمع کرائی تھی، یہ حکم نور مقدم قتل کیس کی 3 نومبر کو ہونے والی سماعت کے حوالے سے جاری کیا گیا۔

سماعت کے دوران ظاہر جعفر نے کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی پر نازیبا الفاظ کسے۔

ظاہر جعفر نے دوران سماعت کہا تھا کہ ’یہ عدالت گندگی کے سوا کچھ نہیں ہے، یہ عدالت اُسے گھسیٹ رہی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے، میں نے اس سے زیادہ جعلی چیز کبھی نہیں دیکھی‘۔

نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے کہا تھا کہ ’میں آپ لوگوں کو مجھے پھانسی دینے کا موقع دے رہا ہوں لیکن پھر بھی آپ لوگ اسے گھسیٹ رہے ہیں، یہ سب ایک کٹھ پتلی شو ہے، میں نے اپنی پوری زندگی میں اس سے زیادہ نااہل لوگوں کو ایک کمرے میں نہیں دیکھا‘۔

مزیدپڑھیں: نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کا پولیس سے ہاتھا پائی کے مقدمے میں ریمانڈ

جس کے بعد جج نے پولیس حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔

جب پولیس ظاہر جعفر کو روکنے کے لیے آگے بڑھی تو انہوں نے انسپکٹر مصطفیٰ کیانی کو کالر سے پکڑ لیا۔

واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب وہ مزاحمت کرتا رہا تو 4 پولیس والے نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم کو باہر لے گئے اور دوبارہ لاک اپ کردیا۔

جس کے بعد جج نے ریماکس دیے کہ وہ ملزم پر توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کررہے لیکن مقدمے کی سماعت جیل میں ہی شروع کریں گے۔

تحریری حکم نامے میں جو بعد میں اسی دن 3 نومبر کو جاری کیا گیا، جج نے استغاثہ کو ہدایت کی کہ وہ باقی گواہوں کو 10 نومبر (بدھ) کو پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس کے بارے میں وہ تمام معلومات جنہیں جاننے کی ضرورت ہے

بعد ازاں تھانہ مارگلہ میں انسپکٹر غلام مصطفیٰ کیانی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا اور مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ ملزم نے کمرہ عدالت میں گالم گلوچ کی۔

خیال رہے کہ 3 نومبر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر کی جانب سے مسلسل ’غلط الفاظ‘ استعمال کرنے پر انہیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا تھا جبکہ 4 نومبر کو کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو پولیس سے ہاتھا پائی کے نئے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں