90

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی استدعا پر خیبرپختونخوا کے میگا ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی استدعا پر خیبرپختونخوا کے میگا ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہواجس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کی ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان ،وفاقی وزراء پرویز خٹک اور عمرایوب اور صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے علاوہ متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جس میں پشاور۔ ڈی آئی خان موٹروے، چشمہ رائٹ بینک کینال اور دیرایکسپریس وے کے مجوزہ منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔

اجلاس میں ان منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے سے متعلق اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ان منصوبوں کو صوبے کی پائیدار ترقی ، معاشی استحکام اور زرعی خودکفالت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے حکام کو ان منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے اور ان پر پیشرفت کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی گئی ۔

چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کو صوبے کی فوڈ سکیورٹی کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہاکہ یہ صوبائی حکومت کا ترجیحی منصوبہ ہے جس پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کیلئے تمام دستیاب آپشنز استعمال کئے جائیں گے تاکہ جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو زیر کاشت لاکر زرعی خود کفالت کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

قبل ازیں خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے اور اس شعبے کو بطور صنعت ترقی دینے کے سلسلے میں جنوبی اضلاع کے قدیم سیاحتی مقام شیخ بدین تک رابطہ سڑک تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے اور متعلقہ فورم سے منصوبے کا پی سی ون بھی منطور کرلیا گیا ہے۔

ایبٹ آباد میں 24 کلو میٹر طویل ٹھنڈیانی روڈ اور سوات میں منکیال روڈ کی بحالی اور اپگریڈیشن کے لیے بھی پی سی ون کی صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظوری ہو گئی ہے اور جلد ان منصوبوں پر عملی کام شروع کر دیا جائے گا۔

یہ بات  وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت مختلف شعبہ جات میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ اجلاس کو سیاحت کے شعبے میں ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں واقع سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہو جائے گی اور سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

مزید بتایا گیا کہ ضلع سوات اور دیر میں 40 کلومیٹر طویل کالام۔کمراٹ روڈ، دیر اپر میں 52 کلومیٹر پاتراک کمراٹ توری اوبا روڈ اور 16 کلومیٹر تھل جہاز بانڈہ روڈ کی تعمیر کے لیے ڈیزائن کی تیاری اور تخمینہ لاگت کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے پانچ مختلف سیاحتی مقامات پر ریسکیو اسٹیشن قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف مقامات پر کل 73 کیمپنگ پوڈزقائم کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید پر کام جاری ہے۔

اجلاس کو صحت کے شعبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عوام کو مقامی سطح پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں قائم بی ایچ یوز کی استعداد کار بڑھانے اور 200 بی ایچ یوز کو24/7 میں تبدیل کرنے اور رورل ہیلتھ سنٹر ز کی بحالی اور 50 آر ایچ سیز کی24/7 صحت مراکز میں تبدیلی کے منصوبے پر پیشرفت جاری ہے۔

منصوبے کا پی سی ون صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظور کرا لیا گیا ہے جبکہ پراجیکٹ پر عملدرآمد کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا ہے اور طبی عملے کی ہائیرنگ کے لیے بھی اشتہار دے دیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع کے سات مختلف ہسپتال آؤٹ سورسنگ کے لیے منتخب کیے گئے ہیں جن میں ڈی ایچ کیو وانا اور کوہستان کے علاوہ دیگر کیٹگری ڈی ہسپتال شامل میں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر کی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ڈائیگناسٹک سروسز کی ہمہ وقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ان خدمات کی آؤٹ سورسنگ پر ہوم ورک جلد مکمل کیا جائے۔

ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کے بارے میں بتایا گیا کہ مختلف اضلاع میں 490 سکول ڈبل شفٹ کے لیے منتخب کیے گئے ہیں جن میں آئندہ تعلیمی سال سے کلاسوں کا باقاعدہ اجراء کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ اب تک صوبہ کے تمام اضلاع کے سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت جاری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں