25

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو باقاعدہ طور پر صوبے کا درجہ دینے کیلئے آئینی ترمیم پیش کرنے کا فیصلہ

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے جی بی کو الگ صوبہ بنانے اور انتخابی اصلاحات کیلئے آئین میں ترمیم کیلئے بل پیش کرنے کافیصلہ کیا ہے جس میں گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے اور سینیٹ انتخابات میں ووٹ کو قابل شناخت بنانے کی تجویز دی جائے گی۔

س حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اس ترمیمی بل پر مشاورت کیلئے اسپیکر اسد قیصر تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔

اس بل کیلئے حکومت کی جانب سے تجاویز سامنے آئی ہیں کہ اوور سیز پاکستانیوں کوالیکشن لڑنے کاحق دیا جانا چاہیے تاہم الیکشن جیتنے کی صورت میں انہیں اپنی دوہری شہریت ترک کرنا ہوگی۔

حکومت نے تجویز دی ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ قرار دے کر یہاں کے نمائندوں کو قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی دی جائے، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک وسیع کیا جائے ۔

حکومت نے اس مجوزہ آئینی ترمیمی بل میں تجویز دی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کو قابل شناخت بنایا جائے۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی حامی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا ملا جلا ردعمل ہے اور مسلم لیگ ن کی جانب سے واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔

اے این پی کی جانب سے حمایت کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ جے یو آئی ف گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی مخالف ہے۔

اگر پیپلزپارٹی حکومت کا ساتھ دیتی ہے تو عمران حکومت دوتہائی اکثریت سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے آئینی ترمیم میں کامیاب ہوجائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں