13

’پاکستانی طالبان سے بات ہو رہی ہے، نہیں جانتے کہ نتیجہ خیز ہوگی یا نہیں‘عمران خان

عمران خان کا تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات پر ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو: ’پاکستانی طالبان سے بات ہو رہی ہے، نہیں جانتے کہ نتیجہ خیز ہوگی یا نہیں‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

ترک تشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم وہ اس بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان کے جواب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ ‘معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے اور ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔‘

عمران خان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ ہماری حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا یہ بات چیت ان کے ہتھیار ڈالنے پر ہو رہی ہے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ’مفاہمتی عمل‘ کے بارے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ’ہم انھیں معاف کر دیں گے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ ’معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں‘ ہیں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے پرامید ہیں تاہم یہ ممکن ہے کہ پاکستانی طالبان سے بات چیت ’نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں