49

پیکا آرڈیننس: وزیراعظم کے خطاب سے لگا انہیں کسی نے درست نہیں بتایا، جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف صدر لاہورہائیکورٹ بارکی درخواست دیگر پٹیشنز کے ساتھ یکجا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کردیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے خطاب سے لگا انہیں کسی نے درست نہیں بتایا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ(پیکا) ترمیمی آرڈیننس کیخلاف لاہورہائیکورٹ بار کے صدر مقصود بٹر کی درخواست پرسماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے حسن عرفان خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ لاہورہائیکورٹ بارکے صدر کی درخواست ہے تو اسے ضرورسنیں گے۔

درخوست گزارکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس درخواست میں پہلے سے دائرپٹیشنزسے ہٹ کربھی 2نئے نکات اٹھائے گئے ہیں، ایف آئی اے کے پاس اختیار نہیں کہ وہ 2 پرائیویٹ پارٹیز کے درمیان مسئلے کو دیکھے، ایف آئی اے صرف وہ کیسز دیکھ سکتاہے جن کا وفاقی حکومت سے

تعلق ہو۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کل جو تقریر کی، لگتا ہے کہ انہیں کسی نے صحیح طور پر نہیں بتایا، ہتکِ عزت کا قانون پیکا سے الگ بھی موجود ہے، ایسا لگتا ہے کہ وزیرِ اعظم کی کسی نے درست معاونت نہیں کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس نجی تنازعات میں پڑنے کا اختیار

نہیں، اسلام بھی اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں تو قانون نافذ ہی ناقدین کیخلاف کیا جاتا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے ایس او پیز کی خلاف ورزی میں کوئی کارروائی نہ کرنے کو یقینی بنائے۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف لاہورہائیکورٹ بار کے صدر کی درخواست پر

اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے درخواست کو پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف دیگر درخواستوں کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزیدسماعت 10مارچ تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں