65

ڈیل کی باتیں ہورہی ہیں، ہمیں ضرورت نہیں: بلاول کا حکومت کیخلاف تحریک کا اعلان

 پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ڈیل ڈیل کی باتیں ہور ہی ہیں ، ہماری ڈیل شہدا کی قبروں اورعوام سے ہے ہمیں اس کی ضرورت نہیں، 5 جنوری کو لاہورسے حکومت کے خلاف تحریک شروع کریں گے، لاہورکواپنا بیس کیمپ بنائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی 14 ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 14 سال گزر گئےعوام آج بھی شہید بی بی کو یاد کرتے ہیں، شہیدبی بی آپ کاپیاراپاکستان مشکل میں ہے۔ شہیدبی بی!آپ کےپاکستان میں نام کی جمہوریت ہے۔ شہیدبی بی! آج آپ کے پاکستان میں بولنے کی آزادی نہیں۔

حکومت کیخلاف احتجاج کے سلسلے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کرجدوجہد کرنی ہے، ملک کے کونے، کونے تک پیپلزپارٹی کا پیغام پہنچانا ہے، جن گھروں پر پیپلزپارٹی کے پرچم تھے وہاں دوبارہ پرچم کولہرانا ہے۔ آپ اٹھیں، ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں، ہماری ڈیل شہدا کی قبروں اورعوام سے ہے، وعدہ ہے ہم گاؤں، گاؤں، شہر، شہر پہنچنے والے ہیں، تمام صوبائی عہدیدارتیاری پکڑیں میں آرہا ہوں، گلگت بلتستان، کشمیر، راجہ پرویزاشرف، قمر زمان کائرہ تیاری پکڑیں، پنجاب بھی پہنچنے والے ہیں، ملک کے ہرکونے تک پہنچیں گے، جہاں میں نہیں پہنچ سکتا وہاں آصف زرداری، فریال تالپور، آصفہ بی بی پہنچیں گے، کٹھ پتلی کے خلاف جنگ کرنے کے اعلان کا وقت آچکا ہے، پانچ جنوری کولاہورمیں اپنا بیس بنائیں گے۔ ان کوضمنی، سینیٹ الیکشن، لوکل گورنمنٹ کو گھرسے شکست ہوئی، ان کے جانے میں دیرنہیں جیالے تیاری پکڑیں، اگلا الیکشن اوروزیراعظم، وزرائے اعلیٰ بھی آپ کے ہوں گے۔

پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا تھا جمہوریت بہترین انتقام ہے، کبھی کوئی آر او، کبھی آر ٹی ایس الیکشن ہوتا ہے،عوام سے جمہوریت کو چھینا گیا،آج پاکستان کےعوام کٹھ پتلی، سلیکٹڈراج بھگت رہے ہیں، نااہل حکمرانوں کابوجھ عوام اٹھارہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے ریاست کی رٹ کو قائم کیا تھا، فوجی سپاہیوں، پولیس اہلکاروں نے دہشت گردوں کو شکست دی تھی، پاکستان کے بہادر عوام، بہادر فوج، بہادر پولیس نے درندوں کو شکست دی، آج اے پی ایس شہدا کے خون کا سودا کیا جا رہا ہے، دہشت گردوں کے سامنے صدر، وزیراعظم جھک چکے ہیں اورڈیل کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیئے، این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے بلوچستان میں گوادر پورٹ بن رہا ہے، این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے تھر جیسے ریگستان میں میگا پراجیکٹ شروع کررہے ہیں، پنجاب میں اگر میٹرو بس بنی ہے تو این ایف سی ایوارڈ،اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے بنی۔ پیپلزپارٹی حکومت جانے کے بعد این ایف سی، اٹھارویں ترمیم پرعمل نہیں کیا جا رہا، موجودہ حکومت صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ مارنا چاہتی ہے، ہم ان کوخودمختاری چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ عوام آج سراپا احتجاج ہے، مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، خان صاحب کی کٹھ پتلی حکومت جمہوریت، صوبائی خود مختاری پر یقین نہیں رکھتی۔ پیپلزپارٹی نے جب اقتدارسنبھالا تو دنیا بھرمیں معاشی بحران تھا، پیپلزپارٹی کی حکومت نے بحران کے باوجود تنخواہ، پنشن میں اضافہ کیا، انقلابی سی پیک جیسا منصوبہ شروع کیا، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی ہم شروع کررہے تھے، پیپلزپارٹی حکومت نے کسان کواصل قیمت دی تھی۔ اگرمعیشت نالائق چلاتا رہے تو پھرمعاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا، یہ ووٹ پرڈاکہ ڈال چکے، اب پیٹ پرڈاکہ ڈال رہے ہیں، پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جس کے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے، جیالے، عوام گڑھی خدابخش کی طرف دیکھ رہے ہیں، عوام دیکھ رہے ہیں کون آکرشہید بھٹوکے خواب کومکمل کرے گا، ہم پاکستان کے عوام کی بے بسی، پریشانی نہیں دیکھ سکتے، بی بی شہید کے جیالے ہی اس ملک کو بچا سکتے ہیں، جیالے تیاری پکڑیں اپنے بل بوتے پرکٹھ پتلی کا مقابلہ کریں گے، اگرکوئی کٹھ پتلی کواٹھا کرباہرپھینک سکتی ہے توپیپلزپارٹی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں